مصنوعی ذہانت آئندہ جنگوں کومزیدخطرناک بناسکتی ہے، وزیر دفاع

0
93
مصنوعی ذہانت آئندہ جنگوں کومزیدخطرناک بناسکتی ہے، وزیر دفاع

اسلام آباد – وزیر دفاع خواجہ آصف نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث مستقبل کی جنگیں زیادہ پیچیدہ اور خطرناک ہو سکتی ہیں۔

یہ بات انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں “مصنوعی ذہانت اور عالمی امن و سلامتی” کے موضوع پر ہونے والے مباحثے سے خطاب کے دوران کہی۔

وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹمز میں مصنوعی ذہانت کے انضمام سے عسکری سطح پر نئی تشکیل ابھر رہی ہے، جو کہ عالمی امن کے لیے سنگین چیلنج بن سکتی ہے۔

خواجہ آصف نے زور دیا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کی روشنی میں مصنوعی ذہانت کا استعمال امن و استحکام کے فروغ کے لیے ہونا چاہیے، اور عالمی سطح پر اس ٹیکنالوجی کو انسانی فلاح کے لیے استعمال میں لانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے 2025 میں اپنی پہلی قومی مصنوعی ذہانت پالیسی متعارف کروائی ہے، جس کا مقصد ٹیکنالوجی کا ذمہ دارانہ اور تعمیری استعمال ہے۔ ان کے مطابق مصنوعی ذہانت نے فیصلہ سازی میں آسانی پیدا کی ہے، تاہم اس کے عسکری استعمال کے خطرات سے صرفِ نظر نہیں کیا جا سکتا۔

وزیر دفاع نے عالمی برادری پر زور دیا کہ اختراع کے اس دور میں سلامتی، شفافیت اور ضوابط پر مبنی بین الاقوامی فریم ورک تشکیل دیا جائے تاکہ مصنوعی ذہانت کا استعمال امن کے لیے کیا جا سکے، نہ کہ تصادم کے لیے۔

Leave a reply