گاؤں کے نوجوان نے انٹرنیٹ سے سیکھ کر کامیابی سے راکٹ لانچ کر دیا

0
142
گاؤں کے نوجوان نے انٹرنیٹ سے سیکھ کر کامیابی سے راکٹ لانچ کر دیا

چین کے صوبے ہونان کے ایک دیہی علاقے سے تعلق رکھنے والے 18 سالہ نوجوان “زینگ شیجی” نے انٹرنیٹ کی مدد سے راکٹ بنا کر کامیابی سے اُڑانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ زینگ نے اپنا راکٹ 400 میٹر کی بلندی تک پہنچایا، جو اس کی کئی سال کی محنت کا نتیجہ ہے۔

زینگ کو راکٹ بنانے کا شوق اُس وقت پیدا ہوا جب وہ 14 سال کی عمر میں اپنے والد کے ساتھ ایک راکٹ لانچ کی براہِ راست نشریات دیکھ رہا تھا۔ وسائل کی کمی کے باوجود، اس نے خود سیکھنے کا عزم کیا اور چین میں مقبول ایپ “ڈویِن” (ٹک ٹاک کا چینی ورژن) سے راکٹ سازی کی ویڈیوز دیکھ کر علم حاصل کیا۔

ابتدائی طور پر زینگ کو راکٹ ٹیکنالوجی کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا، لیکن اس نے مقامی طور پر دستیاب وسائل جیسے پی وی سی پائپ، سیمنٹ اور ری سائیکل شدہ پرزہ جات کا استعمال کرتے ہوئے ابتدائی ماڈل تیار کیے۔ اُس نے جانوروں کے فضلے سے نائٹریٹ حاصل کر کے، چینی اور پانی کے ساتھ ملا کر ابتدائی ایندھن بھی خود تیار کیا۔ بعد میں اسکول میں سیکھے گئے سائنسی طریقوں سے ایندھن کو فلٹر کر کے مزید خالص بنایا۔

زینگ کی کئی ابتدائی کوششیں ناکام ہوئیں، مگر اُس نے ہار نہیں مانی۔ اُس نے خود “تھری ڈی ماڈلنگ” اور “ڈیزائن سافٹ ویئر” سیکھ کر ایک پرانا “تھری ڈی پرنٹر” خریدا اور مزید بہتر ڈیزائنز تیار کیے۔ جون 2023 میں اُس نے اپنے پہلے راکٹ کی آزمائش کی۔ اگرچہ پہلے دن بارش کے باعث تجربہ ناکام ہوا، مگر اگلے دن وہ کامیابی سے راکٹ کو لانچ کرنے میں کامیاب ہو گیا۔

اب تک زینگ نے چار اقسام کے انجن، متعدد “سنگل اسٹیج راکٹ” اور ایک “ٹو اسٹیج راکٹ” تیار کیے ہیں، جو زمین سے 400 میٹر کی بلندی تک گیا۔ اس کامیابی کے بعد زینگ کو “شین یانگ ایرو اسپیس یونیورسٹی” میں “ایرو اسپیس انجینئرنگ” کے شعبے میں داخلہ مل چکا ہے۔

زینگ کے اسکول اور خاندان دونوں نے اس کے شوق میں بھرپور ساتھ دیا۔ اسکول نے اُسے ساڑھے تین ہزار یوآن کی مالی مدد اور تجربات کے لیے جگہ فراہم کی۔ زینگ کا اگلا خواب ایک مکمل “حقیقی راکٹ” ڈیزائن کرنا ہے۔

Leave a reply