کیا خواجہ آصف اور سعد رفیق کی تنقید اشرافیہ کے خلاف عوامی آواز ہے؟

0
297
کیا خواجہ آصف اور سعد رفیق کی تنقید اشرافیہ کے خلاف عوامی آواز ہے؟

اسلام آباد: مسلم لیگ ن کے سینئر رہنماؤں اور وفاقی وزراء خواجہ آصف اور خواجہ سعد رفیق نے ریٹائرڈ ججز کو سکیورٹی فراہم کرنے کے حوالے سے سپریم کورٹ کی جانب سے وزارت داخلہ کو لکھے گئے خط پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

دو روز قبل سپریم کورٹ کے رجسٹرار کی جانب سے وزارت داخلہ کو خط لکھا گیا، جس میں ریٹائرڈ ججز اور مرحوم ججز کی بیواؤں کو تین تین پولیس اہلکاروں پر مشتمل سکیورٹی فراہم کرنے کی سفارش کی گئی۔ خط میں موجودہ سکیورٹی صورتحال کو بنیاد بناتے ہوئے کہا گیا کہ یہ اقدام ان شخصیات کی حفاظت کے لیے ضروری ہے۔

اس فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے خواجہ سعد رفیق نے سوشل میڈیا پر خط کی کاپی شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ اگر یہ خط درست ہے تو یہ فیصلہ انصاف، مساوات اور عام شہری کے تحفظ کے تقاضوں کے برخلاف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاستدانوں، جرنیلوں اور ججوں کی مسلسل مراعات نے عام پاکستانی کو بوجھ تلے دبا دیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس سلسلے کو اب روک دینا چاہیے۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی اس معاملے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سیاستدانوں کے مشکل دن آتے ہیں، لیکن ججز کا “میٹر ہمیشہ چالو رہتا ہے”۔ انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد ججز نئی “دکانیں” کھول لیتے ہیں، جبکہ سیاستدان پارلیمنٹ لاجز کے دو کمروں میں گزارا کرتے ہیں۔

خواجہ آصف نے مزید کہا کہ سیاستدانوں کی تنخواہیں، رہائش اور سکیورٹی سب کچھ میڈیا کی نظروں میں ہوتا ہے، جبکہ دیگر اداروں کے حوالے سے ایسی تنقید نظر نہیں آتی۔ ان کا کہنا تھا کہ ججوں کی سکیورٹی کے لیے اگر ٹینک بھی فراہم کر دیے جائیں تو وہ اس سے بھی زیادہ مانگ سکتے ہیں۔

دونوں رہنماؤں کے بیانات سوشل میڈیا پر زیر بحث ہیں اور عوامی حلقوں میں بھی اشرافیہ کو حاصل مراعات پر نئی بحث کا آغاز ہو چکا ہے۔

Leave a reply