اسرائیلی جارحیت کے بعد دوحہ میں سفارتی سرگرمیاں، مسلم رہنما قطر میں جمع

0
177
اسرائیلی جارحیت کے بعد دوحہ میں سفارتی سرگرمیاں، مسلم رہنما قطر میں جمع

قطر کے دارالحکومت دوحہ پر اسرائیلی فضائی حملے کے بعد مشرق وسطیٰ میں سفارتی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ وزیرِاعظم پاکستان شہباز شریف، متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زید النہیان دوحہ پہنچ چکے ہیں، جبکہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی آمد آج متوقع ہے۔

وزیرِاعظم شہباز شریف نے جمعرات کو ایک روزہ ہنگامی دورے پر دوحہ کا رخ کیا۔ قطر کے نائب وزیراعظم اور وزیرِ دفاع شیخ سعود بن عبد الرحمان نے ایئرپورٹ پر ان کا استقبال کیا۔ وزیراعظم کے ہمراہ اعلیٰ سطح کا وفد بھی موجود ہے جس میں نائب وزیرِ اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ، اور معاونِ خصوصی طارق فاطمی شامل ہیں۔

دورے کے دوران وزیراعظم قطری امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی سے ملاقات کریں گے جس میں اسرائیلی حملے کی شدید مذمت، دوطرفہ یکجہتی، اور علاقائی سلامتی پر مشاورت کی جائے گی۔ وزیراعظم اس موقع پر اس بات کا اعادہ کریں گے کہ پاکستان نے ہمیشہ قطر کے ساتھ کھڑا ہونے کو ترجیح دی ہے۔

متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زید النہیان بھی حملے کے بعد اظہار یکجہتی کے لیے قطر پہنچے۔ قطری امیر نے خود ان کا استقبال کیا۔ اماراتی صدر نے اسرائیلی حملے کو “مجرمانہ کارروائی” قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ ایسے واقعات خطے میں مزید تصادم کو جنم دے سکتے ہیں۔

اس دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا دورہ دوحہ بھی متوقع ہے، جو کہ پہلے سے طے شدہ نہیں تھا۔ ماہرین کے مطابق تینوں رہنماؤں کی قطر میں موجودگی خطے میں یکجہتی اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف مشترکہ مؤقف کی علامت ہے۔

یاد رہے کہ 9 ستمبر کو اسرائیل نے دوحہ میں ایک فضائی حملہ کیا تھا، جس میں حماس کے سینئر رہنما خلیل الحیہ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ اگرچہ وہ محفوظ رہے، تاہم ان کے بیٹے، ایک معاون اور دیگر افراد جاں بحق ہو گئے۔ اس حملے کے وقت حماس کے مذاکرات کار امریکی جنگ بندی تجویز پر غور کر رہے تھے۔

پاکستان، ترکیہ، اردن، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات سمیت اقوامِ متحدہ اور عالمی برادری نے اسرائیلی حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ وزیراعظم پاکستان نے واقعے کے فوری بعد قطری امیر سے ٹیلی فون پر رابطہ کر کے مکمل یکجہتی اور اسرائیلی جارحیت پر شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

دوحہ میں جاری یہ سفارتی سرگرمیاں اس بات کی غماز ہیں کہ اسرائیل کے حالیہ اقدام نے خلیجی ریاستوں کے مابین مشترکہ مؤقف اختیار کرنے کی نئی راہ ہموار کر دی ہے۔

Leave a reply