اسلام آباد کے تعلیمی اداروں میں جسمانی سزا پر مکمل پابندی عائد

اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت کے تعلیمی اداروں میں طلبہ کو جسمانی سزا دینے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
وفاقی ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن (FDE) نے اس حوالے سے ایک نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے تمام سرکاری تعلیمی اداروں کو سختی سے ہدایات دی ہیں کہ کسی بھی طالب علم کو جسمانی سزا نہ دی جائے۔ مراسلے میں کہا گیا ہے کہ قانون کے سیکشن 3(2) کے تحت ایسی سزا دینا ایک سنگین قانونی خلاف ورزی تصور کی جائے گی، اور اس کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب شہری و دیہی علاقوں کے کچھ اسکولوں میں طلبہ کو سزا دینے کی رپورٹس موصول ہوئیں، حالانکہ اس سے قبل بھی متعدد بار ایسے اقدامات سے گریز کی ہدایات دی جا چکی ہیں۔
حکام نے تمام اسکول سربراہان کو ہدایت کی ہے کہ وہ فوری طور پر مؤثر ایکشن کمیٹیاں تشکیل دیں اور ان کی تفصیلات واضح طور پر ادارے میں آویزاں کریں۔ اس کے ساتھ ہی، 13 ستمبر کو تمام اداروں میں لازمی طور پر آگاہی سیمینارز منعقد کیے جائیں گے، جن کا مقصد اس قانون سے متعلق شعور بیدار کرنا ہے۔
مزید برآں، ہر اسکول کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ جسمانی سزا کی ممانعت سے متعلق قانون کے بارے میں آگاہی بینرز نمایاں جگہوں پر آویزاں کرے تاکہ والدین، اساتذہ اور طلبہ سب کو اس قانون کا بخوبی علم ہو۔









