قتل کیس میں سانپ بے قصور نکلا

قتل کیس میں سانپ بے قصور نکلا
انڈین میڈیا کی رپورٹس کا کہنا ہے کہ رویتا نامی خاتون نے آشنا امردیپ کے ساتھ مل کر شوہر کو قتل کیا اور اس کی موت کو حادثاتی موت ظاہر کرنے کے لیے سانپ کا استعمال کیا، مقتول امیت پیشے کے اعتبار سے مزدور تھا جو اپنے بستر پر مردہ حالت میں پایا گیا، ظاہری طور پر اس کی موت سانپ کے کاٹنے سے ہوئی لیکن پولیس نے تحقیقات کے بعد سانپ کو بے قصور قرار دے دیا،پولیس نے لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیجا تو فرانزک رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ امیت سانپ کے کاٹنے سے پہلے گلا گھونٹے سے دم توڑ گیا تھا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ سانپ کو قتل کی واردات پر پردہ ڈالنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ پولیس نے جب رویتا سے پوچھ گچھ کی تو اس نے اعتراف کر لیا کہ اس نے شوہر کے قتل کی سازش امردیپ کے ساتھ مل کر کی، قتل کی رات جب امیت سو رہا تھا تو ملزمان نے اس کا گلا گھونٹا، کسی کو شک نہ ہو اس لیے انہوں نے ایک ہزار روپے کا زہریلا سانپ خریدا اور اسے امیت کے جسم پر چھوڑ دیا، رویتا اور امردیپ دونوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور مزید تفتیش جاری ہے۔









