بشری بی بی کا نکاح ؛ عدالتی فیصلہ آگیا

0
280
بشری بی بی کا نکاح ؛ عدالتی فیصلہ آگیا

ہاٹ لائن نیوز : لاہور ہائیکورٹ میں سابق خاتون اول بشری بی بی اور خاور مانیکا کی طلاق کا معاملہ ؛ بشری بی بی اور خاور مانیکا کی طلاق کا ریکارڈ طلب کرنے کیلیے اعتراضی درخواست پر سماعت ہوئی ۔

عدالت نے درخواست کو ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے خارج کر دیا ۔

جسٹس علی باقر نجفی نے کہا کہ طلاق نامہ عدت پر اعتراض صرف فیملی ممبران کر سکتے ہیں ، اپکو بشری بی بی کی عدت پوری نہ ہونے کا کیسے پتہ ہے یہ بتائیں ؟

وکیل درخواست گزار نے کہا کہ میں نے خبروں میں سنا ہے

عدالت نے کہا کہ آپ نے خبریں دھیان سے نہیں سنی ہوں گی ۔

وکیل نےکہا کہ میں آپ کے پاس آیا ہوں کہ عدت کیسے ہوئی ہے ،اس پر اعتراض یہ ہے یوسی نے کیسے طلاق نامہ کا سٹریفکیٹ جاری کیا ؟

جسٹس علی باقر نجفی نے کہا کہ آپ کیسے یہ چلینج کر سکتے ہیں طلاق نامہ یہ فیملی کے ممبران کو حق ہے ۔

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ میری اس درخواست پر اعتراض لگا تھا ، میں نے دلائل دئیے تھے فاضل جج نے اعتراض نے دور کر دیا ، اب کیس آپکی عدالت میں آگیا ہے،یونین کونسل کی جانب سے وائی لیشن ہوئی ہے ، کیا نکاح حواں رجسٹراڈ تھا یہ جاننا ہمارے لیے ضروری ہے ، ہمیں پتہ ہونا چاہیے کہ ہمارا سابقہ حاکم شراب پیتا تھا افیم استعمال کرتا تھا ۔

جس پر جسٹس علی باقر نجفی نے کہا کہ آپ کیس کی بات کریں یہاں وہاں کی فضول باتیں نہ کریں یہ کیس نہیں بنتا ۔

جسٹس علی باقر نجفی نے آفاق ایڈووکیٹ کی اعتراضی درخواست پر سماعت کی ، درخواست میں چیئرمین پی ٹی آئی، بشری بی بی، خاور مانیکا ، حکومت پنجاب، الیکشن کمیشن سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ قانون کے مطابق طلاق یونین کونسل میں رجسٹرڈ ہونے کے بعد موثر ہوتی ہے ، طلاق کی دستاویزات
متعلقہ یو سی جمع ہونے کے بعد عدت کا دورانیہ شروع ہوتا ہے ، خاور مانیکا اور بشری بی بی کی طلاق میں قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے ، خاور مانیکا نے ٹی وی پروگرام میں عدت پوری نہ ہونے کا انکشاف کیا ہے ،

عدالت سے استدعا کی گئی کہ عدالت خاور مانیکا کو وضاحت کیلئے طلب کرے ، عدالت حکومت پنجاب سے یونین کونسل کا ریکارڈ طلب کرے ۔

Leave a reply