بحیرۂ عمان میں امریکی فوج کا تجارتی جہاز پر حملہ، جہاز ناکارہ ہونے کا دعویٰ

0
32
بحیرۂ عمان میں امریکی فوج کا تجارتی جہاز پر حملہ، جہاز ناکارہ ہونے کا دعویٰ

امریکی فوج نے بحیرۂ عمان میں ایران کی بندرگاہ سے روانہ ہونے والے ایک تجارتی کارگو جہاز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جس کے نتیجے میں جہاز مزید سفر کرنے کے قابل نہیں رہا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق کارروائی کے دوران امریکی فوجی طیارے نے تجارتی جہاز ایم وی ہُدا کے پچھلے حصے کو درست نشانہ لگانے والے ہتھیاروں سے نشانہ بنایا۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ مذکورہ جہاز سینٹ کٹس اینڈ نیوس کے پرچم تلے سفر کر رہا تھا اور ایران کی ایک بندرگاہ سے روانہ ہونے کے بعد امریکی بحری ناکہ بندی کی مبینہ خلاف ورزی کرتے ہوئے آگے بڑھنے کی کوشش کر رہا تھا۔

سینٹ کام کے مطابق حملے سے قبل جہاز کے عملے کو متعدد مرتبہ انتباہ جاری کیے گئے تھے اور انہیں ممکنہ ہدف بننے والے حصوں سے دور رہنے کی ہدایت بھی کی گئی تھی۔ امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ ہدایات پر عمل نہ ہونے کے بعد فوجی کارروائی کی گئی۔

دوسری جانب ایرانی فوج نےبھی آبنائے ہرمز کے قریب 2 تیل بردار جہازوں کے بارودی سرنگوں سے ٹکرانے اورانمیں  آگ لگنے کا دعویٰ کیا ہے۔ تاہم ایرانی حکام نےان جہازوں کی شناخت، پرچم اور منزل کے حوالے سے مزید معلومات جاری نہیں کیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان سمندری راستوں اور بحری ناکہ بندی کے معاملے پر کشیدگی برقرار ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی حالیہ دنوں میں ایران کے فضائی دفاعی نظام کے خلاف محدود فوجی کارروائیوں کا ذکر کر چکے ہیں۔ ان کے بیانات کے بعد خطے میں ممکنہ طور پر مزید فوجی سرگرمیوں کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کے لیے ایک اہم سمندری گزرگاہ ہے۔ اس علاقے میں تجارتی جہازوں کو درپیش خطرات اور امریکا و ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی عالمی توانائی منڈیوں اور بحری تجارت کے لیے تشویش کا باعث بن رہی ہے۔

Leave a reply