
اسلام آباد: وفاقی حکومت نے نئی آٹو پالیسی متعارف کرا دی ہے، جس کا مقصد ملک میں گاڑیوں کی مقامی پیداوار، برآمدات اور الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کو فروغ دینا ہے۔ نئی پالیسی کے تحت گاڑیوں کی تیاری کے اخراجات میں کمی اور مستقبل میں قیمتیں کم ہونے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔
وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر نے وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے ہمراہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران نئی آٹو پالیسی کی تفصیلات پیش کیں۔
پالیسی کے اہم اقدامات میں الیکٹرک گاڑیوں کی خریداری کے لیے فنانسنگ کی حد 20 لاکھ روپے سے بڑھا کر ایک کروڑ روپے کرنا شامل ہے۔ اس کے علاوہ الیکٹرک گاڑیوں کے چارجنگ اسٹیشنز میں استعمال ہونے والے آلات پر کسٹم ڈیوٹی ایک فیصد مقرر جبکہ سیلز ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے۔
حکومت نے ایک ہزار سی سی سے کم انجن والی گاڑیوں پر اضافی ٹیکس عائد نہ کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔
ہارون اختر کے مطابق نئی پالیسی کے ذریعے مقامی سطح پر گاڑیوں کی تیاری میں اضافہ، برآمدات کا فروغ اور پیداواری لاگت میں کمی لانے کی کوشش کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ گاڑیوں کے حفاظتی معیار کو بہتر بنانا بھی حکومتی ترجیحات میں شامل ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ سے درآمدی پیٹرولیم پر انحصار اور ملکی درآمدی بل کم کرنے میں مدد ملے گی، جس سے بچنے والے وسائل کو صحت اور تعلیم جیسے اہم شعبوں پر خرچ کیا جا سکے گا۔
اس موقع پر وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ حکومت کی توجہ متوسط اور کم متوسط طبقے کو سہولت فراہم کرنے پر ہے۔ ان کے مطابق الیکٹرک گاڑیوں کا استعمال بڑھنے سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی آئے گی۔
انہوں نے مقامی آٹو انڈسٹری سے متعلق کہا کہ حکومت نے ملکی صنعت کو تحفظ فراہم کیا، تاہم صنعت کی جانب سے صارفین کو مزید سہولت دینے کے لیے خاطر خواہ اقدامات سامنے نہیں آئے۔
عطا اللہ تارڑ نے عالمی کار ساز کمپنیوں کو پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کی تیاری کے لیے سرمایہ کاری اور پیداواری سرگرمیاں شروع کرنے کی دعوت بھی دی۔
نئی آٹو پالیسی سے مقامی آٹو سیکٹر میں مسابقت بڑھنے، الیکٹرک گاڑیوں کی صنعت کو فروغ ملنے اور صارفین کے لیے گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی کے امکانات پیدا ہونے کی توقع ہے۔ تاہم قیمتوں میں حقیقی کمی کا انحصار پالیسی پر عمل درآمد اور کمپنیوں کے فیصلوں پر ہوگا۔








