اسرائیل میں حکومت سازی کی نئی دوڑ، گادی آئزنکوٹ کو صدر کا گرین سگنل، نیتن یاہو مشکلات میں

0
22
اسرائیل میں حکومت سازی کی نئی دوڑ، گادی آئزنکوٹ کو صدر کا گرین سگنل، نیتن یاہو مشکلات میں

تل ابیب: اسرائیل میں نئی حکومت کی تشکیل کے لیے سیاسی جوڑ توڑ تیز ہوگیا ہے۔ صدر اسحاق ہرزوگ نے اپوزیشن رہنما اور سابق آرمی چیف گادی آئزنکوٹ کو حکومت بنانے کا موقع دینے کا فیصلہ کیا ہے، جس سے وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کی سیاسی مشکلات میں اضافہ ہوگیا ہے۔

اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر آئزنکوٹ کو اتوار کی شام باضابطہ طور پر حکومت سازی کا مینڈیٹ دیں گے۔ انہیں نئی حکومت تشکیل دینے کے لیے 28 دن کی مہلت دی جائے گی، جس میں ضرورت کے تحت مزید 14 دن کی توسیع بھی ممکن ہے۔

اسرائیلی پارلیمنٹ کنیسٹ کی مجموعی 120 نشستوں میں حکومت بنانے کے لیے کم از کم 61 ارکان کی حمایت ضروری ہے۔ سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے دوران آئزنکوٹ کو 67 ارکان جبکہ نیتن یاہو کو 46 ارکان کی حمایت حاصل ہوئی، جب کہ 7 ارکان نے کسی امیدوار کی حمایت نہیں کی۔

دوسری جانب بینجمن نیتن یاہو نے قومی اتحاد کی حکومت بنانے پر زور دیا ہے۔ انہوں نے عرب جماعتوں کی حمایت سے قائم ہونے والے ممکنہ حکومتی اتحاد پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے اسرائیل کے مستقبل کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔

سیاسی مبصرین کی توجہ اب آئزنکوٹ کی کوششوں پر مرکوز ہے کہ آیا وہ مختلف نظریات رکھنے والی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرکے مطلوبہ اکثریت حاصل کرپاتے ہیں یا نہیں۔

اگر آئزنکوٹ مقررہ مدت میں حکومت بنانے میں ناکام رہے تو صدر کسی دوسرے امیدوار کو موقع دے سکتے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کے درمیان اتفاق رائے نہ ہونے کی صورت میں نئے انتخابات کا راستہ بھی اختیار کیا جاسکتا ہے۔

اس پیش رفت سے اسرائیل میں اقتدار کی کشمکش ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگئی ہے، جبکہ نیتن یاہو کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے بھی غیر یقینی صورتحال بڑھ گئی ہے۔

Leave a reply