سعودی عرب کا حوثیوں کے خلاف ممکنہ بڑا آپریشن، پاکستان کا کیا کردار ہوگا؟

ریاض: سعودی عرب یمن میں حوثی گروپ کے خلاف ایک نئی فوجی کارروائی کے مختلف آپشنز پر غور کر رہا ہے، جس کا ایک اہم مقصد بحیرۂ احمر میں تجارتی بحری جہازوں کی آمدورفت کو محفوظ بنانا بتایا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی ذرائع کے مطابق سعودی حکام کے سامنے کارروائی کے دو ممکنہ منصوبے زیرِ غور ہیں۔ پہلے منصوبے میں آبنائے باب المندب اور اس سے ملحقہ ساحلی علاقوں تک کارروائی محدود رکھنے کی تجویز ہے، جبکہ دوسرے اور زیادہ وسیع منصوبے میں یمن کے مختلف علاقوں میں بیک وقت حوثی مخالف کارروائیاں شامل ہو سکتی ہیں۔
ذرائع کے مطابق ممکنہ آپریشن میں سعودی حمایت یافتہ یمنی فورسز مرکزی زمینی کردار ادا کر سکتی ہیں، جبکہ سعودی عرب فضائی معاونت فراہم کر سکتا ہے۔ کارروائی کے حجم کے مطابق بڑی تعداد میں یمنی اہلکاروں کو بھی متحرک کیے جانے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
پاکستان کا ممکنہ کردار
رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان نے سعودی عرب کی دفاعی ضروریات کے لیے اپنے فوجی اہلکار پہلے ہی وہاں تعینات کر رکھے ہیں۔ ان اہلکاروں کا بنیادی کردار سعودی سرزمین کے دفاع اور ڈرونز و میزائل حملوں سے اہم تنصیبات کے تحفظ سے متعلق بتایا جا رہا ہے۔
تاہم دستیاب معلومات کے مطابق پاکستان نے اپنے فوجیوں کو یمن کے اندر براہِ راست جنگی کارروائی میں شامل کرنے کا فیصلہ نہیں کیا۔
رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان نے حالیہ عرصے میں سعودی عرب کو فضائی دفاع، ڈرونز کے خلاف نظام اور دیگر فوجی سامان فراہم کیا ہے۔ پاکستانی فوجی ماہرین سعودی حکام کے ساتھ دفاعی معاملات میں تعاون بھی کر رہے ہیں۔
سعودی عرب کو کن خطرات کا سامنا ہے؟
ممکنہ کارروائی کے دوران سعودی عرب کے لیے سب سے بڑا خدشہ حوثیوں کی جانب سے ڈرون اور میزائل حملوں کا ہے۔ سعودی تیل تنصیبات، ساحلی علاقوں اور دیگر اہم بنیادی ڈھانچے کے تحفظ کے لیے ریاض اپنے اتحادی ممالک سے دفاعی تعاون حاصل کر رہا ہے۔
ترکیہ کی جانب سے بھی سعودی عرب کو فوجی سازوسامان فراہم کیے جانے کی اطلاعات ہیں، جبکہ فرانس نے سعودی ساحلی علاقے ینبع کے دفاع میں تعاون کی پیشکش کی ہے۔
کارروائی محدود ہوگی یا وسیع؟
ماہرین کے مطابق سعودی عرب کے سامنے بنیادی سوال یہ ہے کہ ممکنہ آپریشن کو صرف باب المندب اور ساحلی علاقوں تک محدود رکھا جائے یا حوثیوں کے خلاف یمن کے دیگر محاذوں پر بھی دباؤ بڑھایا جائے۔
بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ سعودی حکمت عملی پہلے کے مقابلے میں زیادہ محتاط ہو سکتی ہے اور فوری مقصد حوثیوں کو مکمل طور پر شکست دینے کے بجائے اہم ساحلی علاقوں پر کنٹرول اور بحری راستوں کی بحالی ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب بعض ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یمن میں حوثیوں کے خلاف ایک بڑے اور طویل زمینی آپریشن کے لیے سعودی حمایت یافتہ مختلف یمنی دھڑوں کے درمیان مؤثر رابطہ اور اتحاد ایک اہم چیلنج ہوگا۔
امریکا کا ممکنہ کردار
رپورٹس کے مطابق امریکا سعودی عرب کو انٹیلی جنس اور عسکری مشاورت کی صورت میں تعاون فراہم کر رہا ہے، تاہم براہِ راست فوجی کارروائی میں امریکی کردار کی حدود واضح نہیں ہیں۔
اس صورتحال میں سعودی عرب کے لیے ایک بڑا چیلنج یہ بھی ہوگا کہ وہ حوثیوں پر دباؤ بڑھاتے ہوئے اپنے علاقوں، توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور بحری راستوں کو ممکنہ جوابی حملوں سے کیسے محفوظ رکھتا ہے۔
یمن میں کسی نئی فوجی کارروائی کا آغاز خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے، جبکہ اس کے اثرات بحیرۂ احمر کی عالمی تجارت اور مشرقِ وسطیٰ کی سکیورٹی صورتحال پر بھی پڑنے کا امکان ہے۔









