
ہاٹ لائن نیوز : بینکنگ عدالت کے جج ملک منیر احمد جوئیہ نے بنک الفلاح کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کی۔
بینک کا موقف ہے کہ شہری علی اسلم ملک نے 2004 ء میں فرسٹ پاکستان سکیورٹیز کے نام پر قرض لیا جس پر عدالت نے ڈگری بھی جاری کی ہے، بنک ڈیفالٹر نے عدالتی ڈگری کے بعد بنک کو رقم ادا کرنے کا معاہدہ کیا مگر بنک کی اجازت کے بغیر ہی کمپنی کے ڈائریکٹرز کو تبدیل کر دیا۔
بنک کی جانب سے استدعا کی گئی کہ تحریری معاہدے سے انحراف اور 29 کروڑ قرض کی عدم ادائیگی پر شہری علی اسلم اور اسکے اہل خانہ کے خلاف فوجداری کارروائی کی جائے، ایف۔ آئی۔ اے کارپوریٹ سرکل نے بھی علی اسلم ملک کے خلاف الگ قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے،ایف۔ آئی۔ اے نے علی اسلم ملک اور اس کے خاندان سمیت دیگر افراد کو نوٹس جاری کردیئے ہیں۔
درخواست گزار کی جانب سے کہا گیا کہ علی اسلم ملک نے فرسٹ پاکستان سکیورٹیز کے شیئرز رہن رکھوا کر بنک سے 29 کروڑ کا قرض لیا، ملزم نے قرض لے کر اپنی اہلیہ عدیلہ اور بچوں کے نام پر بے نامی جائیدادیں بنائی ہوئی ہیں اور قرض کی ادائیگی بھی نہیں کر رہا ، جان بوجھ کر ڈیفالٹ کرنے پر شہری کیخلاف مقدمہ درج کرنے کہ استدعا کی گئی ہے۔









