
اسلام آباد: باخبر ذرائع کے مطابق 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد ہائی کورٹ کے چار ججز کے بین الصوبائی تبادلوں کا امکان ہے، جبکہ ایک جج اپنی سروس کے پانچ سال مکمل ہونے کے بعد استعفیٰ دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
نئی ترمیم کے تحت جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ ہائی کورٹ کے ججز کے تبادلے ان کی رضامندی کے بغیر بھی کر سکے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ باضابطہ کارروائی تب ہی شروع ہوگی جب یہ ترمیم آئین کا حصہ بن جائے گی۔
سرکاری حلقوں کے مطابق اس ترمیم کی ضرورت اس لیے محسوس کی گئی تاکہ ان ججز کے رویے سے پیدا ہونے والے مسائل کو مؤثر انداز میں حل کیا جا سکے جن پر عدلیہ کی ساکھ متاثر کرنے کے الزامات لگائے گئے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کو توقع ہے کہ ترمیم کے بعد جوڈیشل کمیشن میں اس کا اثر و رسوخ بڑھے گا کیونکہ اس کی نئی تشکیل میں جسٹس منیب اختر شامل نہیں ہوں گے۔
دوسری جانب مختلف فریقین کے درمیان مشاورت کے نتیجے میں مجوزہ وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس کے طور پر جسٹس امین الدین خان کے نام پر اتفاق رائے پیدا ہو چکا ہے۔
ابتدائی تجویز کے مطابق یہ عدالت سات رکنی ہونی تھی، تاہم پیپلز پارٹی نے مطالبہ کیا کہ اس میں ارکان کی تعداد نو کر دی جائے تاکہ ہر صوبے سے دو اور اسلام آباد سے ایک رکن شامل ہو۔
وفاقی آئینی عدالت کے لیے جن ناموں پر غور کیا جا رہا ہے ان میں سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس کے کے آغا اور بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس روزی خان بریچ شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق 27ویں ترمیم کے نفاذ کے بعد چار ہائی کورٹ ججز کے تبادلوں اور ان کی نئی تعیناتیوں کے بارے میں حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔








