142 سالہ طویل زندگی کا اختتام، سعودی عرب کے تاریخی گواہ دنیا سے رخصت

0
44
142 سالہ طویل زندگی کا اختتام، سعودی عرب کے تاریخی گواہ دنیا سے رخصت

سعودی عرب کے معمر ترین شہریوں میں شمار کیے جانے والے ناصر بن ردان الراشد الوداعی 142 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ان کا شمار ان شخصیات میں ہوتا تھا جنہوں نے جدید سعودی عرب کے قیام اور ارتقائی مراحل کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔
مرحوم کی نمازِ جنازہ جنوبی سعودی شہر ظہران الجنوب میں ادا کی گئی، جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ بعد ازاں انہیں ان کے آبائی گاؤں الراشد میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔
ناصر بن ردان الراشد کی زندگی ایک صدی سے زائد عرصے پر محیط تھی۔ ان کی پیدائش اس دور میں ہوئی جب جزیرہ نما عرب مختلف قبائل اور علاقوں میں منقسم تھا۔ انہوں نے 1932 میں مملکتِ سعودی عرب کے قیام سمیت ملک کے سیاسی، سماجی اور معاشی ارتقا کے تمام اہم ادوار کا مشاہدہ کیا۔
وہ سعودی عرب کے بانی شاہ عبدالعزیز آلِ سعود سے لے کر موجودہ فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز تک تمام سات سعودی بادشاہوں کے عہد کے عینی شاہد رہے۔ ان کی زندگی اس بات کی گواہی تھی کہ کس طرح ایک صحرائی خطہ وقت کے ساتھ ایک جدید اور خوشحال ریاست میں تبدیل ہوا۔
اہلِ خانہ کے مطابق مرحوم نہایت مذہبی شخصیت تھے اور انہوں نے اپنی طویل زندگی میں 40 سے زائد مرتبہ حج کی سعادت حاصل کی۔ مذہبی وابستگی اور روایتی اقدار سے گہرا تعلق ان کی نمایاں خصوصیات میں شامل تھا۔
خاندانی ذرائع کے مطابق ناصر بن ردان کے سوگواران میں مجموعی طور پر 134 افراد شامل ہیں، جن میں اولاد اور پوتے پوتیاں شامل ہیں۔ ان کے 3 بیٹے اور 6 بیٹیاں تھیں، جبکہ اگلی نسل کی تعداد 125 بتائی جاتی ہے۔
انہوں نے تین شادیاں کیں، جن میں آخری شادی 110 برس کی عمر میں ہوئی، جس سے ان کے ہاں ایک بیٹی پیدا ہوئی۔
ان کی وفات کی خبر عرب میڈیا اور سوشل میڈیا پر نمایاں طور پر زیرِ بحث رہی۔ بہت سے افراد انہیں سعودی تاریخ، روایات اور سماجی تبدیلیوں کا ایک زندہ حوالہ قرار دیتے تھے۔

Leave a reply