یوٹاہ میں فائرنگ کا واقعہ: معروف قدامت پسند رہنما چارلی کرک ہلاک

0
112
یوٹاہ میں فائرنگ کا واقعہ: معروف قدامت پسند رہنما چارلی کرک ہلاک

امریکی ریاست یوٹاہ میں فائرنگ کے ایک واقعے میں معروف قدامت پسند رہنما اور ’ٹرننگ پوائنٹ یو ایس اے‘ کے بانی چارلی کرک ہلاک ہو گئے۔

یہ افسوسناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب وہ یوٹاہ ویلی یونیورسٹی میں خطاب کر رہے تھے۔ اطلاعات کے مطابق کرک کو ایک دور دراز عمارت سے نشانہ بنایا گیا، اور گولی ان کے گردن میں لگی۔ انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکے۔

چارلی کرک امریکی سیاست میں ایک نمایاں قدامت پسند شخصیت کے طور پر جانے جاتے تھے اور سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے تھے۔ ان کی ہلاکت پر ٹرمپ نے گہرے دکھ کا اظہار کیا اور انہیں نوجوانوں کے لیے ایک متاثر کن رہنما قرار دیا۔

واقعے کے بعد ایک مشتبہ شخص کو حراست میں لیا گیا، مگر بعد میں ثبوت نہ ملنے پر اسے رہا کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق حملہ آور کی تلاش جاری ہے، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں پر سیکیورٹی میں غفلت پر شدید تنقید ہو رہی ہے، کیونکہ نشانہ بنانے والا کافی دیر تک چھت پر موجود رہا۔

یوٹاہ کے گورنر نے اس حملے کو ایک سیاسی بنیاد پر کیا گیا واقعہ قرار دیا ہے، اور یقین دہانی کروائی ہے کہ مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

چارلی کرک کی یاد میں وائٹ ہاؤس سمیت کئی سرکاری عمارتوں پر پرچم سرنگوں کر دیا گیا ہے۔ بعض غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب کرک ٹرانس جینڈر افراد سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کر رہے تھے۔

یاد رہے کہ 2012 میں قائم ہونے والی تنظیم ’ٹرننگ پوائنٹ یو ایس اے‘ کے ذریعے کرک نے امریکی تعلیمی اداروں میں قدامت پسند نظریات کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا۔

Leave a reply