ہونڈائی کے جدید روبوٹس صنعت میں انقلاب لانے کے لیے تیار

0
107
ہونڈائی کے جدید روبوٹس صنعت میں انقلاب لانے کے لیے تیار

دنیا بھر میں صنعتی کاموں اور روزمرہ زندگی میں انسانی کام کو آسان بنانے کے لیے جدید روبوٹکس اور خودکار نظام تیزی سے ترقی کر رہے ہیں۔ ہونڈائی موٹر گروپ نے ایسے روبوٹس متعارف کرائے ہیں جو انسانی ہاتھوں کی طرح کام کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور فیکٹری کے خطرناک یا دہرائے جانے والے کام انجام دے سکتے ہیں۔
یہ روبوٹس، جنہیں “ایٹلس” کہا جاتا ہے، ہونڈائی کی ذیلی کمپنی بوسٹن ڈائنامکس نے تیار کیے ہیں اور یہ لاس ویگاس میں ہونے والے کنزیومر الیکٹرونکس شو میں پیش کیے گئے۔ یہاں روبوٹس نے نہ صرف 50 کلوگرام تک وزن اٹھانے کی صلاحیت دکھائی بلکہ راک اسٹار ڈانس بھی کر کے حاضرین کو حیران کر دیا۔
ایٹلس روبوٹس خودمختار طور پر کام کر سکتے ہیں اور صنعتی ماحول میں مائنس 20 ڈگری سیلسیس سے لے کر 40 ڈگری تک کام کرنے کے قابل ہیں۔ ہونڈائی کے مطابق ابتدا میں یہ روبوٹس پارٹس کی ترتیب اور دہرائے جانے والے کاموں میں مدد کریں گے، جبکہ مستقبل میں پیچیدہ اور بھاری کاموں کے لیے بھی تیار ہوں گے۔
کمپنی نے بتایا کہ سال 2028 سے امریکہ کی ریاست جورجیا میں اپنی فیکٹری میں ایٹلس روبوٹس کی تعیناتی کی جائے گی، اور اگلے چند سالوں میں ہر فیکٹری میں سالانہ تقریباً 30 ہزار روبوٹس تیار کیے جائیں گے۔ ہونڈائی نے واضح کیا کہ اگرچہ روبوٹس کام کو خودکار بنائیں گے، پھر بھی انسانی ماہرین کی ضرورت ہوگی جو انہیں چلائیں، تربیت دیں اور ان کی دیکھ بھال کریں۔
یہ جدید روبوٹس نہ صرف مزدوروں کے جسمانی دباؤ کو کم کریں گے بلکہ فزیکل اے آئی یعنی حقیقی دنیا میں خودمختار فیصلے کرنے والے روبوٹک نظاموں کی مارکیٹ کو بھی فروغ دیں گے۔ ہونڈائی نے عالمی سطح پر اے آئی ماہرین جیسے این وی ڈیا اور گوگل کے ساتھ شراکت داری کر کے روبوٹس کی حفاظت اور کارکردگی بہتر بنانے پر کام جاری رکھا ہے۔
یہ اقدام ہونڈائی کے لیے صنعت میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور محفوظ کام کے ماحول کی طرف ایک اہم قدم ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ترقی سے انسان اور مشین کے درمیان تعاون بڑھے گا اور صنعتیں زیادہ مؤثر اور مستقبل کے لیے تیار ہوں گی، جو صنعتی آٹومیشن اور فزیکل اے آئی میں نئے امکانات پیدا کرے گی۔

Leave a reply