ہزاروں دکاندار متاثر، گل پلازہ آگ کراچی کی بڑی تجارتی تباہی بن گئی

0
70
ہزاروں دکاندار متاثر، گل پلازہ آگ کراچی کی بڑی تجارتی تباہی بن گئی

کراچی کے مصروف تجارتی علاقے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں لگنے والی شدید آگ کے بعد ریسکیو اور امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔ اس دوران گل پلازہ ایسوسی ایشن کے صدر تنویر قاسم نے عمارت میں وینٹی لیشن کی کمی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ریسکیو اداروں اور سرکاری مشینری کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے ہیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تنویر قاسم کا کہنا تھا کہ یہ دعویٰ بے بنیاد ہے کہ عمارت میں وینٹی لیشن کا مناسب انتظام موجود نہیں تھا۔ ان کے مطابق پلازہ میں متعدد داخلی و خارجی راستے، کھڑکیاں، ایمرجنسی ایگزٹ ریمپس، مسجد کی جانب دروازے اور باقاعدہ وینٹی لیشن ڈکٹس موجود تھے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکام اپنی نااہلی کا بوجھ عمارت پر ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں، حالانکہ آگ لگنے کے بعد کافی دیر تک کوئی مؤثر ریسکیو ٹیم موقع پر نہیں پہنچی۔ ان کے بقول تاجروں نے اپنی مدد آپ کے تحت لوگوں کو نکالنے کی کوشش کی اور بڑی تعداد میں افراد کو محفوظ باہر نکالا گیا۔
تنویر قاسم نے بتایا کہ ایمرجنسی ریمپس کے ذریعے درجنوں افراد کو باہر لایا گیا اور گراؤنڈ فلور خالی کروایا گیا، تاہم میزنائن فلور پر پھنسے افراد کے لیے خاطر خواہ ریسکیو معاونت فراہم نہیں کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی ریسکیو اہلکاروں کے پاس حفاظتی سامان تک موجود نہیں تھا جس کے باعث وہ عمارت کے اندر داخل نہ ہو سکے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ فائر بریگیڈ کی گاڑیوں کو بار بار پانی یا تکنیکی مسائل کا سامنا رہا جبکہ ایک اسنارکل گاڑی فنی خرابی کے باعث پوری رات غیر فعال کھڑی رہی۔ ان کے مطابق آگ ہفتے کی رات سوا دس بجے لگی اور ابتدائی طور پر تاجروں نے فائر فائٹنگ آلات کی مدد سے آگ بجھانے کی کوشش کی، جبکہ سرکاری گاڑیاں تاخیر سے پہنچیں۔
تنویر قاسم کے مطابق گل پلازہ میں بارہ سو سے زائد دکانیں ہیں اور ہفتے کے دن ہونے کے باعث مارکیٹ میں ہزاروں افراد موجود تھے، تاہم زیادہ تر لوگوں کو محفوظ نکال لیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اب بھی عمارت کو شدید نقصان پہنچ چکا ہے اور جو افراد اندر رہ گئے تھے، ان کے بچنے کے امکانات نہایت کم ہو چکے ہیں۔
دوسری جانب ریسکیو حکام کے مطابق متاثرہ عمارت کا ایک اور حصہ منہدم ہو چکا ہے جس سے امدادی کارروائیاں مزید خطرناک ہو گئی ہیں۔ ملبے سے ایک لاش نکالی گئی ہے جس کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ فائر فائٹر کی ہے، جس کے بعد جاں بحق افراد کی تعداد چھ ہو گئی ہے۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق آگ سے متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں جنہیں قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ آگ تیزی سے گراؤنڈ فلور سے بالائی منزلوں تک پھیلی اور تاحال مکمل طور پر بجھائی نہیں جا سکی۔
فائر بریگیڈ حکام کا کہنا ہے کہ آگ بجھانے کے لیے بڑی تعداد میں فائر ٹینڈرز، اسنارکلز، پانی اور فوم کا استعمال کیا جا رہا ہے جبکہ پاک بحریہ کے اہلکار بھی امدادی کارروائیوں میں شریک ہیں۔ شدید دھوئیں اور گرمی کے باعث اندر جانا مشکل ہے اور مزید افراد کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری ادارے فوری طور پر متحرک ہوئے اور رات بھر آگ بجھانے کی کوششیں جاری رہیں۔ ان کے مطابق عمارت میں موجود مختلف آتش گیر اشیاء کے باعث آگ کی شدت میں اضافہ ہوا۔
انہوں نے بتایا کہ آگ کے ایک بڑے حصے پر قابو پا لیا گیا ہے اور متاثرین کو محفوظ نکالنا اولین ترجیح ہے، جبکہ مالی نقصانات کا تخمینہ آگ مکمل طور پر بجھنے کے بعد لگایا جائے گا۔
سندھ حکومت کی ترجمان سعدیہ جاوید کا کہنا ہے کہ سانحے کے بعد نقصانات کا جائزہ لیا جائے گا اور متاثرین کے لیے ازالے کے اقدامات کیے جائیں گے۔
گل پلازہ میں آتشزدگی کے نتیجے میں اربوں روپے کے مالی نقصان کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے جبکہ متاثرہ تاجر شدید صدمے اور بے بسی کا شکار ہیں۔

Leave a reply