گیسلیین میکس ویل کی جیل ویڈیو پر سوشل میڈیا پر بحث

گیسلین میکس ویل کی جیل ویڈیو سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ ویڈیو میں انہیں جیل سے ویڈیو لنک کے ذریعے پیش ہوتے دیکھا جا سکتا ہے، جہاں وہ سوالات کے جواب میں بارہا امریکی آئین کی ففتھ امینڈمنٹ کا حوالہ دیتی ہیں اور اپنے مبینہ ساتھی جیفری ایپسٹین سے تعلقات اور مقدمے سے متعلق سوالات پر خاموشی اختیار کرتی ہیں۔
یہ ویڈیو امریکی ایوانِ نمائندگان کی اوور سائٹ کمیٹی کی جانب سے جاری کی گئی۔ منظر عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے ویڈیو کے اسکرین شاٹس کو پرانی تصاویر کے ساتھ ملا کر مختلف دعوے کرنا شروع کر دیے۔ بعض افراد کا کہنا ہے کہ ویڈیو میں نظر آنے والی خاتون میکس ویل نہیں بلکہ کوئی اور ہو سکتی ہے، تاہم ان دعوؤں کے حق میں کوئی مستند ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔
چند پوسٹس میں یہ قیاس آرائیاں بھی کی گئیں کہ معاملہ کسی بڑے خفیہ منصوبے کا حصہ ہو سکتا ہے، جبکہ کچھ صارفین نے کیمرے کے زاویے اور روشنی پر سوال اٹھاتے ہوئے ظاہری تبدیلیوں کو بنیاد بنایا۔ ماہرین کے مطابق ویڈیو کوالٹی، روشنی اور زاویے کی وجہ سے چہرے کے خدوخال مختلف دکھائی دے سکتے ہیں، خاص طور پر جب پرانی تصاویر سے تقابل کیا جائے۔
سرکاری اور عدالتی ریکارڈ کے مطابق 63 سالہ میکس ویل جولائی 2020 میں گرفتاری کے بعد وفاقی تحویل میں ہیں اور 2021 میں جنسی اسمگلنگ کے جرم میں 20 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ اسی طرح ایپسٹین 2019 میں حراست کے دوران ہلاک ہو گئے تھے، جس کے بعد مختلف سازشی نظریات گردش میں آتے رہے ہیں، تاہم حکام کی تحقیقات میں ان کی موت کو خودکشی قرار دیا گیا تھا۔
تاحال جاری کردہ ویڈیو یا سرکاری دستاویزات میں اس بات کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا کہ ویڈیو میں موجود شخصیت کوئی اور ہے۔ حکام کی جانب سے بھی سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔









