
گوگل نے اپنے آرٹیفیشل انٹیلی جنس سسٹم جیمنائی میں ایک نمایاں اور وسیع اپ ڈیٹ متعارف کرا دی ہے، جسے پرسنل انٹیلی جنس کا نام دیا گیا ہے۔ اس اپ ڈیٹ کو اے آئی ٹیکنالوجی کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
نئے فیچر کے تحت جیمنائی اب گوگل کی مختلف سروسز میں موجود صارف کے ذاتی ڈیٹا کو سمجھ کر زیادہ جامع اور موزوں جوابات دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس میں گوگل سرچ، جی میل، گوگل فوٹوز اور یوٹیوب جیسی ایپس شامل ہیں، جن کے ذریعے اے آئی صارف کی ضروریات کو بہتر طور پر سمجھ سکے گا۔
اگرچہ جیمنائی پہلے بھی ان ایپس کے ساتھ کام کر رہا تھا، تاہم پرسنل انٹیلی جنس کے بعد اس کی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی صارف گاڑی کے کسی مسئلے سے متعلق سوال کرے تو جیمنائی صارف کی سابقہ آن لائن سرگرمیوں، تصاویر یا ویڈیوز کی بنیاد پر گاڑی کی شناخت کر کے مسئلے کا زیادہ درست حل تجویز کر سکتا ہے۔
گوگل کا کہنا ہے کہ اس اپ ڈیٹ کے بعد جیمنائی محض ایک چیٹ بوٹ نہیں رہے گا بلکہ ایک حقیقی ڈیجیٹل پرسنل اسسٹنٹ کا کردار ادا کرے گا جو صارف کی روزمرہ ضروریات میں مدد فراہم کرے گا۔
یہ نیا فیچر ابتدائی طور پر امریکا میں متعارف کرایا جا رہا ہے اور فی الحال گوگل اے آئی پرو اور اے آئی الٹرا سبسکرپشن رکھنے والے صارفین کے لیے دستیاب ہوگا۔ کمپنی کے مطابق آنے والے مہینوں میں اس سہولت کو دیگر ممالک اور مفت صارفین تک بھی مرحلہ وار پھیلایا جائے گا، جبکہ مستقبل میں اسے گوگل سرچ کے اے آئی موڈ میں بھی شامل کیا جائے گا۔









