گل پلازہ واقعہ: فائر بریگیڈ کی انتظامی کمزوریوں کا پردہ فاش

0
69
گل پلازہ واقعہ: فائر بریگیڈ کی انتظامی کمزوریوں کا پردہ فاش

کراچی کے شاپنگ سینٹر گل پلازہ میں پیش آنے والی ہولناک آتشزدگی کے بعد یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ آگ پر بروقت اور مؤثر قابو کیوں نہ پایا جا سکا۔ اب اس حوالے سے ایک اہم وجہ سامنے آ گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق کراچی فائر بریگیڈ گزشتہ ایک سال سے مستقل چیف فائر آفیسر کے بغیر کام کر رہی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ آخری چیف فائر آفیسر اشتیاق احمد 2024 میں ریٹائر ہو گئے تھے، جس کے بعد ہمایوں خان کو ایک علیحدہ محکمے سے لا کر لُک آفٹر چارج کے طور پر تعینات کیا گیا۔
دستاویزات کے مطابق عدالت نے اگست 2025 میں حکم دیا تھا کہ سینیارٹی کی بنیاد پر تین ماہ کے اندر چیف فائر آفیسر کی تقرری عمل میں لائی جائے، تاہم تاحال اس عدالتی حکم پر عملدرآمد نہیں ہو سکا۔
افسران کی سینیارٹی فہرست میں ہمایوں خان کا نام شامل نہیں ہے۔ وہ اربن سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم کے لیڈر ہیں اور انہیں گریڈ بارہ سے براہِ راست گریڈ سترہ میں ترقی دی گئی۔ مزید یہ کہ چیف فائر آفیسر کے عہدے کے لیے درکار ایم ایس سی کی تعلیمی شرط بھی وہ پوری نہیں کرتے، کیونکہ وہ بی اے پاس ہیں۔
دوسری جانب یہ انکشاف بھی سامنے آیا ہے کہ انسانی بو سونگھنے والے کتے، جو ملبے تلے دبے افراد کی تلاش میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، اربن سرچ اینڈ ریسکیو کے پاس موجود نہیں۔ یہ کتے گل پلازہ کے سرچ آپریشن میں استعمال نہیں کیے گئے، حالانکہ شہری حکومت نے 2008 میں سات لاکھ روپے سے زائد لاگت سے یہ کتے پاک فوج سے حاصل کیے تھے۔
مزید تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ گل پلازہ کی دکانوں سے مزید ڈی وی آرز برآمد کر لی گئی ہیں، جن کی جانچ پڑتال جاری ہے۔

Leave a reply