گریٹر بنگلادیش کے تصور پر بھارتی میڈیا میں ہلچل

ڈھاکا: بنگلادیش کے عبوری سربراہ محمد یونس نے حال ہی میں پاکستانی اعلیٰ فوجی عہدیدار کے ساتھ ملاقات کے دوران ایک ایسا نقشہ پیش کیا جس میں بھارت کی شمال مشرقی ریاستیں بنگلادیش کے حصے کے طور پر دکھائی گئی ہیں، جس نے بھارت میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
یہ ملاقات پاکستان کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے چیئرمین جنرل ساحر شمشاد مرزا کے ڈھاکا دورے کے دوران ہوئی۔ یونس نے جنرل مرزا کو اپنی کتاب “آرٹ آف ٹرائمف” تحفے میں دی، جس کے سرورق پر یہ نقشہ نمایاں تھا۔ بعد ازاں یونس نے ملاقات کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کیں، جس کے بعد بھارتی میڈیا میں اس پر تنقید کی گئی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ محمد یونس کی سربراہی میں بنگلادیش کی خارجہ پالیسی میں تبدیلیاں دیکھی گئی ہیں، اور عبوری حکومت نے پاکستان اور چین کے ساتھ تعلقات میں اضافہ کیا ہے، جس کے باعث بھارت کے ساتھ کشیدگی بڑھ گئی ہے۔
یاد رہے کہ یونس پہلے بھی بھارت کے شمال مشرقی علاقوں کے حوالے سے متنازع بیانات دے چکے ہیں۔ اپریل میں چین کے دورے کے دوران انہوں نے ان ریاستوں کو “زمین سے گھرا ہوا خطہ” قرار دیا اور کہا کہ بنگلادیش اس خطے کا “واحد سمندری دروازہ” ہے۔ اس بیان کے بعد بھارت نے بنگلادیشی سامان کی ترسیل کے معاہدات منسوخ کیے تھے۔
مزید برآں، یونس کے قریبی ساتھیوں نے بھی متنازع بیانات اور نقشے جاری کیے، جن میں “گریٹر بنگلادیش” کے نظریے کا تذکرہ شامل تھا۔ محمد یونس نے اس پر تاحال کوئی بیان جاری نہیں کیا، تاہم ماہرین اس خاموشی کو بھارت مخالف حکمتِ عملی اور چین و پاکستان کے ساتھ بڑھتے تعلقات کی نشانی قرار دے رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یونس کی یہ حکمتِ عملی جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن پر اثر ڈال سکتی ہے، جس سے بھارت کے لیے سفارتی اور خطے کے سیاسی دباؤ میں اضافہ ممکن ہے۔









