کیا فاسٹ چارجنگ سے فون کی بیٹری جلد خراب ہوتی ہے؟

0
124
کیا فاسٹ چارجنگ سے فون کی بیٹری جلد خراب ہوتی ہے؟

آج کل زیادہ تر اسمارٹ فونز فاسٹ چارجنگ کی سہولت کے ساتھ آتے ہیں تاکہ صارفین اپنا فون تیزی سے چارج کر سکیں۔ ابتدائی دنوں میں 30 واٹ چارجر کو فاسٹ سمجھا جاتا تھا، لیکن اب 100 واٹ یا اس سے زیادہ کے چارجر بھی عام ہو چکے ہیں۔

لیکن اکثر صارفین یہ سوچتے ہیں کہ تیز چارجنگ فون کی بیٹری کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ اس سوال کا جواب ہاں اور نہیں دونوں ہو سکتا ہے۔

فون بیٹری کس طرح کام کرتی ہے؟

لیتیئم آئیون بیٹریز میں دو تہیں ہوتی ہیں: ایک لیتھیئم کوبالٹ آکسائیڈ کی اور دوسری گریفائٹ کی۔ بیٹری چارج ہونے پر لیتھیئم آئیونز حرکت کرتے ہیں اور توانائی خارج ہوتی ہے، جس سے حرارت پیدا ہوتی ہے۔ زیادہ حرارت بیٹری کے طویل مدتی استعمال پر اثر ڈال سکتی ہے، مگر جدید بیٹریز اور فونز میں اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے کئی تکنیکی حل موجود ہیں۔

فاسٹ چارجنگ اور حرارت

فاسٹ چارجنگ کے ابتدائی دور میں بیٹریاں جلد گرم ہو جاتی تھیں، لیکن نئے فونز میں حرارت کنٹرول کرنے کے لیے شیلڈز، تھرمل لئیرز اور کولنگ پائپس نصب کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ فونز میں بجلی کی مقدار کو کنٹرول کرنے کے فیچرز بھی موجود ہیں، جیسے کہ ملٹی اسٹیج اور اڈاپٹیو چارجنگ، جو بیٹری کو محفوظ رکھتے ہیں۔

نتیجہ

فاسٹ چارجنگ بیٹری کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے اگر فون کو طویل وقت تک زیادہ بجلی پر چارج کیا جائے، لیکن جدید فونز میں یہ خطرہ بہت کم ہے۔ البتہ، بیٹری ہمیشہ وقت کے ساتھ کمزور ہوتی ہے، چاہے آپ کوئی احتیاط بھی کریں۔ فاسٹ چارجنگ استعمال کرتے وقت فون کو بہت دیر تک چارجر پر لگائے رکھنے سے گریز کرنا بہتر رہتا ہے تاکہ بیٹری کی عمر زیادہ دیر تک برقرار رہے۔

Leave a reply