کیا زمین کے سمندر خلا سے آئے؟ تحقیق نے نیا رخ دے دیا

0
125
کیا زمین کے سمندر خلا سے آئے؟ تحقیق نے نیا رخ دے دیا

ایک نئی سائنسی تحقیق نے یہ حیرت انگیز انکشاف کیا ہے کہ خلا میں موجود ریوگو نامی ایسٹرائیڈ پر پانی اُس وقت بھی موجود تھا جب وہ اپنے وجود میں آئے ہوئے ایک ارب سال گزر چکا تھا۔ یہ انکشاف جاپانی خلائی مشن ’ہایابوسا ۲‘ کی مدد سے زمین پر لائے گئے چٹانی ذرات کے باریک تجزیے کے بعد سامنے آیا ہے۔

اب تک ماہرین کا یہ ماننا تھا کہ نظام شمسی کے ابتدائی دور میں ہی ایسٹرائیڈز پر پانی موجود رہا ہوگا، اور وقت کے ساتھ وہ خشک ہو گئے ہوں گے۔ مگر ریوگو سے حاصل ہونے والے نمونوں نے اس نظریے کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ نمونوں سے پتا چلا ہے کہ پانی کا بہاؤ نظام شمسی کی ابتدا کے کافی عرصے بعد تک جاری رہا۔

یونیورسٹی آف ٹوکیو کے ماہر، ڈاکٹر تِسیوشی ایزوکا نے بتایا کہ یہ دریافت اس جانب اشارہ کرتی ہے کہ اسٹیرائیڈز میں پانی کی موجودگی ماضی میں سمجھے گئے وقت سے کہیں زیادہ دیر تک قائم رہی۔ اُن کا کہنا تھا، ’’پانی جلدی ختم نہیں ہوا، بلکہ لمبے عرصے تک موجود رہا۔‘‘

تحقیق کے دوران ماہرین نے دو خاص عناصر — لُوٹیٹیم اور ہافنیم — کے آیسوٹوپس کا باریک جائزہ لیا۔ ان آیسوٹوپس کا تناسب اس بات کی علامت تھا کہ ریوگو کے پیرنٹل جسم میں پانی بہتا رہا، جس نے لُوٹیٹیم کو باہر نکالنے میں کردار ادا کیا۔

ماہرین کے مطابق ممکن ہے کہ کسی وقت ریوگو کے اصل جسم میں بڑا تصادم ہوا ہو جس سے دراڑیں پڑ گئیں، اور اندر موجود برف پگھل کر پانی میں تبدیل ہو گئی۔ یہی پانی چٹانوں کے اندر بہتا رہا، اور وقت کے ساتھ اصل جسم ٹوٹ کر ریوگو جیسے چھوٹے ایسٹرائیڈ میں تبدیل ہو گیا۔

اس تحقیق کا ایک اہم نتیجہ یہ بھی ہے کہ ایسے کاربن سے بھرپور ایسٹرائیڈز نے زمین کی ابتدائی تشکیل میں شاید پہلے سمجھے گئے اندازوں سے کہیں زیادہ پانی فراہم کیا ہو۔ اگر ایسا ہے تو یہ زمین پر سمندروں اور ماحول کی تشکیل کے حوالے سے ہمارے موجودہ نظریات میں بڑی تبدیلی لا سکتا ہے۔

یہ تحقیق صرف چند گرام چٹانی ذرات پر کی گئی، جنہیں ہایابوسا ۲ مشن نے زمین پر پہنچایا تھا۔ ان ذرات میں سے کئی تو چاول کے دانے سے بھی چھوٹے تھے۔ سائنس دانوں نے ان سے آیسوٹوپس نکالنے کے لیے جدید جیوکیمیکل طریقے اپنائے۔

Leave a reply