کیا ایران امریکا کے خلاف عسکری کارروائی کی صلاحیت رکھتا ہے؟

ایران میں جاری احتجاجی صورتحال کے تناظر میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یہ عندیہ دیا گیا ہے کہ اگر ایران میں مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال کیا گیا تو امریکا فوجی ردعمل پر غور کر سکتا ہے۔ اس بیان کے جواب میں ایران نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی امریکی کارروائی کی صورت میں خطے میں موجود امریکی مفادات، اسرائیل اور خلیج میں قائم فوجی اڈے جوابی حملوں کی زد میں آ سکتے ہیں۔
امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق واشنگٹن میں ایران کے خلاف ممکنہ اقدامات پر غور جاری ہے، جن میں سائبر آپریشنز، فضائی حملے اور اقتصادی پابندیوں میں اضافہ شامل ہو سکتا ہے۔ ایسے حالات میں یہ سوال اہم ہو جاتا ہے کہ آیا ایران واقعی امریکا کے خلاف مؤثر عسکری کارروائی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں۔
عسکری طاقت کے عالمی تجزیے کرنے والے ادارے گلوبل فائر پاور کی 2025 کی درجہ بندی کے مطابق ایران مشرقِ وسطیٰ میں تیسری اور دنیا بھر میں سولہویں بڑی فوجی قوت شمار ہوتا ہے۔ ایران کی آبادی 8 کروڑ 80 لاکھ سے زائد ہے جبکہ اس کے فعال فوجی اہلکاروں کی تعداد چھ لاکھ سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق ایران کے پاس سینکڑوں فوجی طیارے موجود ہیں جن میں لڑاکا طیارے بھی شامل ہیں، جبکہ بری فوج کے لیے ہزاروں ٹینک اور بحریہ کے لیے درجنوں جنگی جہاز موجود ہیں۔ اس کے علاوہ ایران روایتی فوج کے ساتھ ساتھ نیم فوجی دستوں اور خطے میں موجود اتحادی گروہوں کے ذریعے بھی اثر و رسوخ رکھتا ہے۔
ایران کی حمایت یافتہ تنظیمیں لبنان، عراق، شام، یمن اور فلسطین میں سرگرم ہیں، جو بوقتِ ضرورت امریکا اور اس کے اتحادیوں کے مفادات کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ایران کے میزائل پروگرام کو بھی اس کی دفاعی حکمتِ عملی کا اہم حصہ سمجھا جاتا ہے، جس میں مختصر اور درمیانی فاصلے تک مار کرنے والے میزائل شامل ہیں۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کے کچھ میزائل خلیجی ممالک میں واقع امریکی فوجی اڈوں تک پہنچ سکتے ہیں۔ امریکا کے خطے میں متعدد فوجی مراکز موجود ہیں جہاں ہزاروں فوجی تعینات ہیں اور جدید دفاعی نظام نصب ہیں، تاہم اچانک حملوں کی صورت میں ردعمل کا وقت محدود ہو سکتا ہے۔
گزشتہ چند برسوں میں ایران یا اس کے حمایت یافتہ گروہوں پر امریکا اور اس کے اتحادیوں کے خلاف حملوں کے الزامات لگتے رہے ہیں، جن میں ڈرون اور میزائل حملے شامل ہیں۔ بعض مواقع پر ان حملوں سے جانی نقصان بھی ہوا، اگرچہ کئی حملے دفاعی نظام کے ذریعے ناکام بنا دیے گئے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران براہِ راست مکمل جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا، تاہم وہ بالواسطہ طور پر خطے میں موجود امریکی اثاثوں، توانائی تنصیبات اور اتحادیوں پر دباؤ ڈالنے کی محدود صلاحیت ضرور رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ کشیدگی کو ایک نازک اور حساس مرحلہ قرار دیا جا رہا ہے۔









