کچے کے 72 ڈاکوؤں نے ہتھیار ڈال دیے، جدید اسلحہ پولیس کے حوالے

0
121
کچے کے 72 ڈاکوؤں نے ہتھیار ڈال دیے، جدید اسلحہ پولیس کے حوالے

شکارپور میں پولیس لائن میں سندھ حکومت کی ڈاکوؤں کے لیے بنائی گئی سرینڈر پالیسی 2025 کے تحت ایک اہم تقریب منعقد ہوئی، جس میں کچے کے 72 ڈاکوؤں نے خود کو پولیس کے حوالے کر دیا۔ ان افراد نے ہتھیار ڈال کر ریاست سے تعاون کا اعلان کیا۔

تقریب میں ہتھیار ڈالنے والے ڈاکوؤں کے قبضے سے برآمد ہونے والا جدید اسلحہ بھی پیش کیا گیا، جن میں کلاشنکوف، راکٹ لانچر، اینٹی ایئرکرافٹ گنز اور دیگر مہلک ہتھیار شامل تھے۔

ڈاکوؤں کے سروں کی مجموعی انعامی رقم 6 کروڑ روپے سے زائد تھی۔ ان میں کئی بدنام زمانہ افراد شامل تھے، جیسے نثار سبزوئی، جس پر 82 مقدمات درج تھے اور اس کے سر کی قیمت 30 لاکھ روپے مقرر تھی۔ اسی طرح لادو، سوکھیو، سونارو، جمعو، واجو، گلزار، نمو، اور نور دین تیغانی کے خلاف درجنوں مقدمات درج تھے، اور ان پر بھی لاکھوں روپے کے انعامات رکھے گئے تھے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر داخلہ ضیا لنجار نے کہا کہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے علاقے میں دیرپا امن چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ برادریوں کے تعاون سے ہی یہ ممکن ہوا، اور ہتھیار ڈالنے والوں کو قانون کے تحت بہتر زندگی گزارنے کا موقع دیا جائے گا۔

انہوں نے واضح کیا کہ سرینڈر کرنے والوں سے قانون کے مطابق سلوک ہوگا اور ان پر مقدمات اپنی جگہ قائم رہیں گے، مگر انہیں پرامن شہری بننے کا موقع فراہم کیا جائے گا۔ حکومت کچے کے علاقوں میں ترقیاتی منصوبے، روزگار، تعلیم، اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔

آئی جی سندھ نے کہا کہ اگرچہ کئی علاقوں میں امن بحال ہو چکا ہے، تاہم گھوٹکی کا کچے کا علاقہ تاحال کلیئر نہیں ہو سکا، اور پولیس کی کارروائیاں جاری ہیں۔

یہ پیش رفت سندھ میں قیامِ امن کی جانب ایک اہم قدم تصور کی جا رہی ہے۔

Leave a reply