“کوئی یقین نہ کرتا… مگر اسد علی نے سات براعظموں کا راز پا لیا”

پاکستانی کوہ پیما اسد علی میمن کا تاریخی کارنامہ، ساتوں براعظموں کی بلند ترین چوٹیاں سر کر لیں
پاکستان کے نوجوان کوہ پیما اسد علی میمن نے عالمی سطح پر ایک بڑا کارنامہ سرانجام دے دیا ہے۔ انہوں نے دنیا کے ساتوں براعظموں کی بلند ترین چوٹیاں سر کر کے “سیون سمٹ” کا چیلنج کامیابی سے مکمل کر لیا ہے۔
اس اہم مہم جوئی کا اختتام انہوں نے حال ہی میں انڈونیشیا میں واقع اوشیانا کی بلند ترین چوٹی، پونچک جایا کو سر کر کے کیا۔ یہ پہاڑی چوٹی 4,884 میٹر بلند ہے اور اسے کوہ پیمائی کے میدان میں ایک مشکل ہدف سمجھا جاتا ہے۔
اسد علی میمن نے یہ سفر 2019 میں یورپ کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ البرس سے شروع کیا۔ 2020 میں انہوں نے جنوبی امریکا کی اکونکاگوا ، 2021 میں افریقا کی ماؤنٹ کیلیمنجرو ، اور 2022 میں شمالی امریکا کی ماؤنٹ ڈینالی کو سر کیا۔
2023 میں انہوں نے ایشیا اور دنیا کی سب سے بلند چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ کو سر کیا۔ 2024 کے آغاز میں انہوں نے انٹارکٹیکا میں واقع ماؤنٹ وِنسن کو بھی سر کر لیا۔
ساتوں براعظموں کی بلند ترین چوٹیوں کو سر کرنا دنیا بھر میں صرف چند سو کوہ پیماؤں کو نصیب ہوتا ہے، اور اسد علی میمن اس منفرد فہرست میں شامل ہونے والے پاکستان کے چند نمایاں کوہ پیماؤں میں سے ایک بن گئے ہیں۔
ان کی یہ کامیابی نہ صرف پاکستان کے لیے باعثِ فخر ہے بلکہ نوجوان نسل کے لیے بھی ایک روشن مثال ہے کہ محنت، جذبے اور عزم سے دنیا کی کوئی چوٹی سر کرنا ممکن ہے۔









