کائنات کا قدیم ترین بلیک ہول دریافت، سائنس کی دنیا میں نئی پیشرفت

0
117
کائنات کا قدیم ترین بلیک ہول دریافت، سائنس کی دنیا میں نئی پیشرفت

سائنسدانوں نے کائنات کے سب سے قدیم بلیک ہول کا سراغ لگایا ہے، جو ممکنہ طور پر بگ بینگ کے فوراً بعد وجود میں آیا تھا۔ یہ حیرت انگیز دریافت جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کے ذریعے کی گئی، جو خلا میں موجود انتہائی جدید دوربین ہے۔

ماہرین کے مطابق، یہ بلیک ہول ایک سرخ اور روشن نکتہ ’’QSO 1‘‘ کے مطالعے کے دوران دریافت ہوا، جو زمین سے اربوں نوری سال دور ہے۔ اندازہ لگایا گیا ہے کہ یہ بلیک ہول تقریباً 13 ارب سال پہلے بنا تھا۔

اب تک یہ سمجھا جاتا رہا ہے کہ کائنات میں پہلے ستارے اور کہکشائیں وجود میں آئیں، اور جب وہ ستارے ختم ہوئے تو ان کے نتیجے میں بلیک ہولز بنے۔ لیکن نئی تحقیق سے یہ خیال چیلنج ہوتا نظر آ رہا ہے۔

دریافت کیے گئے بلیک ہول کے اردگرد موجود مادے کا تجزیہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ ہائیڈروجن اور ہیلیم پر مشتمل ہے — یعنی وہ عناصر جو کائنات کے آغاز پر ہی موجود تھے، نہ کہ وہ جو ستاروں کی موت کے بعد پیدا ہوتے ہیں۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ بلیک ہول ممکنہ طور پر بغیر کسی کہکشاں کے براہ راست گیس اور گرد کے بڑے بادلوں سے بنا، جو کہ اب تک کے نظریات سے مختلف ہے۔

اس قدیم بلیک ہول کا اندازاً حجم 50 لاکھ سورجوں کے برابر ہے، تاہم اس کے گرد موجود مادہ اس سے بھی کم مقدار میں ہے، جو اس کی پراسرار نوعیت کو مزید بڑھاتا ہے۔

یہ دریافت اس بات کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے کہ کائنات کے آغاز میں بلیک ہولز کیسے بنے اور آج ہم انہیں بڑی کہکشاؤں کے مرکز میں کیوں پاتے ہیں۔

سائنس کی دنیا میں یہ ایک نئی راہ ہموار کر رہی ہے، اور ماہرین کو امید ہے کہ مزید تحقیق سے کائنات کی ابتدا کے بارے میں مزید رازوں سے پردہ اٹھے گا۔

Leave a reply