ڈکی بھائی کیس میں عدالتی ریمانڈ پر افسران کے خلاف سنگین الزامات

0
183
ڈکی بھائی کیس میں عدالتی ریمانڈ پر افسران کے خلاف سنگین الزامات

لاہور میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے بعض افسران کے خلاف سنگین رشوت کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ یہ مقدمہ معروف یوٹیوبر سعد الرحمٰن المعروف ڈکی بھائی کی اہلیہ عروب جتوئی کی شکایت پر درج کیا گیا۔

ایف آئی آر کے مطابق ملزمان نے ڈکی بھائی کے اہل خانہ سے مجموعی طور پر 90 لاکھ روپے رشوت وصول کی۔ تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ تفتیشی افسر نے یوٹیوبر کو قانونی ریلیف دلوانے کے لیے 60 لاکھ روپے اپنے واسطے سے وصول کیے جبکہ مزید 30 لاکھ روپے جوڈیشل ریمانڈ کرانے کے لیے لیے گئے۔

مزید برآں، اس رقم کے کچھ حصے کو دیگر افسران اور کار شورو مالکان کے ذریعے تقسیم کیا گیا۔ مقدمے میں کہا گیا ہے کہ ملزمان نے اپنی سرکاری ذمہ داریوں کا ناجائز استعمال کیا اور رشوت لے کر قانونی کارروائی کو متاثر کرنے کی کوشش کی۔

گزشتہ روز وفاقی تحقیقاتی ادارے نے لاہور میں کارروائی کرتے ہوئے NCCIA کے ایڈیشنل ڈائریکٹر سمیت چار افسران کو گرفتار کیا۔ یوٹیوبر ڈکی بھائی 20 اگست سے ایجنسی کی تحویل میں ہیں اور ان پر بین الاقوامی آن لائن جوئے کے نیٹ ورک کے ساتھ تعلق اور سوشل میڈیا پر جوئے کی ایپس کی تشہیر کے الزامات ہیں۔

ضمانت کی درخواستیں عدالتوں میں مسترد ہو چکی ہیں اور وہ اب بھی عدالتی ریمانڈ پر جیل میں موجود ہیں۔

Leave a reply