ڈان شپیرو کے بیان سے ہلچل، ایران کی اعلیٰ قیادت پر دباؤ بڑھنے کا امکان

0
61
ڈان شپیرو کے بیان سے ہلچل، ایران کی اعلیٰ قیادت پر دباؤ بڑھنے کا امکان

امریکا کے اسرائیل میں سابق سفیر ڈان شپیرو نے دعویٰ کیا ہے کہ آنے والے ہفتوں میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوسکتا ہے، اور ان کے بقول امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کے تحت ایران کی اعلیٰ قیادت پر دباؤ بڑھایا جا سکتا ہے۔
ایک اسرائیلی خبر رساں ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں ڈان شپیرو کا کہنا تھا کہ امریکا ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے خلاف سخت اقدامات پر غور کر سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بات ایسے وقت میں کہی ہے جب ایرانی قیادت پہلے ہی امریکا پر ملک کے اندر بدامنی اور پرتشدد واقعات میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کر چکی ہے۔
ڈان شپیرو، جو سابق صدر باراک اوبامہ کے دور میں اسرائیل میں امریکی سفیر رہ چکے ہیں، نے کہا کہ ایران کو موجودہ حالات میں قیادت کے حوالے سے بڑے چیلنجز درپیش ہیں۔ ان کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای کی عمر اور صحت کے مسائل ایران کے اندر سیاسی بحث کا موضوع بن چکے ہیں۔
مزید برآں، سابق امریکی سفیر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا جلد مشرقِ وسطیٰ میں اپنی بحری موجودگی میں اضافہ کر سکتا ہے۔ ان کے بقول یہ اقدام نہ صرف ایران کے خلاف ممکنہ کارروائیوں کو سہل بنائے گا بلکہ کسی بھی ردِعمل کی صورت میں دفاعی تیاریوں میں بھی مدد دے گا۔
ڈان شپیرو کے مطابق آنے والے دنوں میں امریکا کی جانب سے ایرانی فورسز پر دباؤ یا مزید حملوں کے امکانات کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا، تاہم ان بیانات پر امریکی حکومت کی جانب سے کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

Leave a reply