
ممبئی: بھارتی فلم انڈسٹری کے معروف کامیڈین اور اداکار راج پال یادیو کو دہلی کی تہاڑ جیل میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ یہ اقدام ایک پرانے مالی تنازعے کے نتیجے میں سامنے آیا، جو ان کی 2010 میں ریلیز ہونے والی فلم اتا پتا لاپتا کے لیے لیے گئے قرض سے متعلق ہے۔
رپورٹس کے مطابق، راج پال یادیو نے مورالی پروجیکٹس پرائیویٹ لمیٹڈ سے فلم کی پروڈکشن کے لیے تقریباً 5 کروڑ روپے قرض لیے تھے۔ فلم کی ناکامی کے بعد وہ قرض واپس کرنے سے قاصر رہے، جس پر قرض دہندہ نے عدالت سے رجوع کیا۔
اپریل 2018 میں، مجسٹریٹ عدالت نے راج پال اور ان کی اہلیہ رادھا کو نگیوشیبل انسٹرومنٹس ایکٹ کی شق 138 کے تحت مجرم قرار دیا، جو چیک باؤنس کے جرائم سے متعلق ہے۔ کیس میں اپیلیں اور قانونی کارروائیاں کئی سال تک جاری رہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، جمعرات کو عدالت کے حکم کے مطابق راج پال خود کو تہاڑ جیل کے حکام کے حوالے کر دیا۔ اس سے قبل دہلی ہائی کورٹ نے ان کی درخواست مسترد کر دی تھی، اور عدالت نے ان کی مزید مہلت کی درخواست بھی مسترد کر دی۔
عدالت کے ریکارڈ کے مطابق، قرض کی اصل رقم، سود اور جرمانے سمیت واجبات تقریباً 9 کروڑ روپے تک پہنچ چکے ہیں۔ ابتدائی طور پر راج پال نے 8 کروڑ روپے کی ادائیگی کی یقین دہانی کرائی تھی، جو بعد میں 7 کروڑ روپے تک کم ہو گئی۔ ادائیگی کے لیے جاری کیے گئے چیک باؤنس ہونے پر فوجداری مقدمات بھی درج کیے گئے۔
ماہرین کے مطابق، نگیوشیبل انسٹرومنٹس ایکٹ کے تحت عدالت کے احکامات کی تعمیل نہ کرنے پر قید کا بھی امکان ہوتا ہے۔ فی الحال، راج پال یادیو کی رہائی واجبات کی ادائیگی پر منحصر ہے۔








