
اوپن اے آئی کی ایک سابق محقق نے خبردار کیا ہے کہ اگر چیٹ جی پی ٹی میں اشتہارات شامل کیے گئے تو صارفین کی انتہائی نجی معلومات کے استعمال سے متعلق سنگین سوالات جنم لے سکتے ہیں۔ ان کے مطابق لوگ اس اے آئی سروس کو ایک قابل اعتماد ساتھی سمجھتے ہوئے اپنی صحت، تعلقات، مذہبی عقائد اور دیگر ذاتی معاملات سے متعلق حساس معلومات شیئر کرتے ہیں، جو عام سوشل میڈیا مواد کے مقابلے میں کہیں زیادہ نجی ہوتی ہیں۔
سابق محقق کا کہنا ہے کہ اگر اشتہارات صارفین کی گفتگو یا رجحانات کی بنیاد پر دکھائے گئے تو انہیں غیر محسوس انداز میں متاثر کیا جا سکتا ہے۔ ان کے بقول اس طرح کے اثرات کو سمجھنا اور ان پر قابو پانا مشکل ہو سکتا ہے، خاص طور پر اس صورت میں جب کاروباری مفادات کو ترجیح دی جائے۔
اوپن اے آئی اس سے قبل یہ عندیہ دے چکی ہے کہ وہ اپنے پلیٹ فارم پر اشتہارات کی آزمائش پر غور کر رہی ہے۔ تاہم کمپنی کا مؤقف ہے کہ صارفین کی گفتگو کسی اشتہار دینے والے کے ساتھ شیئر نہیں کی جائے گی اور نہ ہی ذاتی ڈیٹا فروخت کیا جائے گا۔
سابق محقق نے واضح کیا کہ ان کی تشویش موجودہ پالیسی کی خلاف ورزی سے متعلق نہیں بلکہ مستقبل میں ممکنہ کاروباری دباؤ کے پیش نظر اصولوں میں تبدیلی کے خدشے پر مبنی ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ صارفین کے ڈیٹا کے تحفظ کے لیے مضبوط قانونی فریم ورک یا آزاد نگرانی کا نظام ہونا چاہیے تاکہ حالات بدلنے کے باوجود پرائیویسی کو ترجیح حاصل رہے۔
ماہرین کے مطابق اے آئی سسٹمز بعض اوقات صارفین کو خوش رکھنے یا ان کے خیالات کی تائید کرنے کی طرف مائل ہو سکتے ہیں۔ اگر اشتہارات آمدنی کا بنیادی ذریعہ بن جائیں تو یہ خدشہ پیدا ہو سکتا ہے کہ پلیٹ فارم رہنمائی کے بجائے صارفین کو زیادہ دیر تک مصروف رکھنے کو ترجیح دے۔
دوسری جانب سروے رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بڑی تعداد میں صارفین اشتہارات کے باوجود مفت اے آئی خدمات کا استعمال جاری رکھ سکتے ہیں۔ اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ اگرچہ لوگ نجی معلومات کے تحفظ پر تشویش رکھتے ہیں، تاہم وہ سہولت اور رسائی کو بھی اہمیت دیتے ہیں۔
مجموعی طور پر یہ معاملہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے ایک اہم موڑ کی حیثیت اختیار کر چکا ہے، جہاں کاروباری ضروریات اور صارفین کے اعتماد کے درمیان توازن قائم کرنا ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔









