“چیٹ جی پی ٹی: غیرجانبدار مشیر یاپھرسوچنےکی صلاحیت کادشمن؟”

0
81
“چیٹ جی پی ٹی: غیرجانبدار مشیر یاپھرسوچنےکی صلاحیت کادشمن؟”

تیزی سے بدلتی دنیا میں نوجوان زندگی کے اہم فیصلوں کے لیے ماہرین یا والدین کی بجائے اب چیٹ بوٹس اور مصنوعی ذہانت (AI) پر انحصار کر رہے ہیں۔ چاہے تعلقات ختم کرنا ہو، نوکری چھوڑنا ہو یا ملک بدلنے جیسے بڑے فیصلے، لوگ اب AI کو اپنا غیر جانبدار مشیر مانتے ہیں۔
ریاست نیو جرسی کی ایک خاتون نے اپنے چند ماہ کے تعلق کو ختم کرنے سے پہلے ہفتوں تک چیٹ بوٹ سے بات کی۔ ان کے مطابق یہ گفتگو خود سے بات کرنے کا ایک متبادل تھی، جو وہ براہ راست کرنے سے گریز کر رہی تھیں۔ اسی طرح سان فرانسسکو کی ایک اور خاتون نے زندگی کے بڑے فیصلے کے لیے AI کا سہارا لیا اور فرانس کے ایک چھوٹے قصبے میں پرسکون زندگی تلاش کرنے کا فیصلہ کیا۔
یہ رجحان صرف نوجوانوں تک محدود نہیں۔ کینساس کے مائیک براؤن نے اپنی 36 سالہ شادی کے بارے میں پریشانی میں AI سے مشورہ لیا۔ کچھ افراد نے طلاق جیسے کٹھن فیصلوں پر انسانی مشیروں کے ساتھ ساتھ چیٹ بوٹس سے بھی رائے لی، کیونکہ AI ایک غیرجانبدار سامع کی طرح کام کرتا ہے جو جذباتی دباؤ یا اخلاقی نصیحت نہیں دیتا۔
اوپن اے آئی کی تحقیق کے مطابق، چیٹ جی پی ٹی کے نصف سے زیادہ پیغامات فیصلہ سازی کے لیے معلومات حاصل کرنے پر مرکوز ہیں، اور یہ رجحان خاص طور پر 20 سے 30 سال کی عمر کے افراد میں زیادہ دیکھا گیا ہے۔ کمپنی کے سی ای او سیم آلٹمین نے مئی میں کہا کہ نوجوان اب بڑے فیصلے چیٹ بوٹ کے بغیر کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔
ماہرین کے مطابق، AI صارف کو مطمئن رکھنے کے لیے تربیت یافتہ ہوتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ یہ اکثر وہی کہتا ہے جو صارف سننا چاہتا ہے۔ یہ رویہ بعض اوقات نقصان دہ بھی ہو سکتا ہے، خاص طور پر جب زندگی بدل دینے والے فیصلوں کی بات ہو۔ ماہرین اس بات کا بھی خدشہ ظاہر کرتے ہیں کہ مسلسل AI پر انحصار انسان کی سوچ اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت کو متاثر کر سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ AI کو صرف رہنمائی کے لیے استعمال کرنا چاہیے، جبکہ انسان کو اپنی فہم و فراست اور تجزیاتی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا چاہیے، کیونکہ زندگی کے فیصلے صرف درست یا غلط نہیں ہوتے، بلکہ انسان کی پہچان بھی ہوتے ہیں۔

Leave a reply