چین کا نیا دفاعی نظام: بیک وقت ہزاروں میزائلوں کی نگرانی کی صلاحیت

0
129
چین کا نیا دفاعی نظام: بیک وقت ہزاروں میزائلوں کی نگرانی کی صلاحیت

چین کا نیا دفاعی نظام: بیک وقت ہزاروں میزائلوں کی نگرانی کی صلاحیت

بیجنگ – چین نے ایک جدید دفاعی سسٹم کا فعال پروٹوٹائپ تعینات کر دیا ہے، جو دنیا بھر سے بیک وقت داغے گئے ہزاروں میزائلوں کو ٹریک کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ نظام چین کی پیپلز لبریشن آرمی کے تحت تیار کیا گیا ہے اور اسے “ڈسٹری بیوٹڈ ارلی وارننگ ڈیٹیکشن بگ ڈیٹا پلیٹ فارم” کا نام دیا گیا ہے۔

یہ سسٹم خلا، سمندر، فضاء اور زمین پر موجود مختلف اقسام کے سینسرز سے ڈیٹا اکٹھا کر کے فوری تجزیہ کرتا ہے اور معلومات کو مرکزی کمانڈ سینٹر تک پہنچاتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کی خاص بات یہ ہے کہ یہ نہ صرف میزائلوں کے راستے اور نوعیت کی شناخت کر سکتا ہے بلکہ اصلی اور جعلی اہداف میں بھی فرق کر سکتا ہے۔

نظام میں جدید نیٹ ورک پروٹوکول استعمال کیا گیا ہے جو محدود بینڈوڈتھ یا ممکنہ مداخلت کے باوجود بھی تیز رفتار اور محفوظ ڈیٹا کی ترسیل ممکن بناتا ہے۔ سسٹم کی مدد سے مختلف فارمیٹس اور ذرائع سے آنے والا غیر مربوط ڈیٹا ایک مربوط دفاعی تصویر میں تبدیل کیا جا سکتا ہے، جو فوری فیصلہ سازی میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ڈیٹا مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی تربیت کے لیے بھی استعمال کیا جائے گا تاکہ نظام کی استعداد میں مزید اضافہ ممکن ہو سکے۔

دوسری جانب، امریکا کا مجوزہ “گولڈن ڈوم” میزائل ڈیفنس منصوبہ ابھی ابتدائی مراحل میں ہے، اور اس کی تکنیکی تفصیلات بھی ابھی مکمل طور پر سامنے نہیں آ سکیں۔ امریکی تجزیہ کاروں کے مطابق میزائلوں کا مقابلہ کرنے سے زیادہ بڑا چیلنج تیزی سے بڑھتے ہوئے ڈیٹا کو مؤثر طریقے سے منظم کرنا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق چین کا یہ اقدام عالمی دفاعی توازن پر اثر انداز ہو سکتا ہے اور یہ اس کی بڑھتی ہوئی ٹیکنالوجیکل خود کفالت کی علامت ہے۔

Leave a reply