“چھپ کر کی گئی شادی… اب چھپ نہیں پائے گی؟”

بھارتی ریاست آسام کی اسمبلی نے دوسری شادی کے خلاف سخت پابندیاں عائد کرتے ہوئے آسام پروہیبیشن آف پولیگمی بل 2025 منظور کر لیا ہے۔ اس قانون کا مقصد ازدواجی نظام کو مضبوط بنانا اور خواتین کے حقوق کا بہتر تحفظ کرنا ہے۔
نئے قانون کے تحت پہلی شادی کو قانونی طور پر ختم کیے بغیر دوسری شادی کرنا قابلِ سزا جرم قرار دے دیا گیا ہے۔ اس جرم کے مرتکب افراد کو 10 سال تک کی قید ہو سکتی ہے، جبکہ دوبارہ ایسا کرنے والوں کے لیے سزا میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔
بل میں یہ بھی شامل ہے کہ:
دوسری شادی کرنے میں معاونت کرنے والے شخص پر 1 لاکھ 50 ہزار روپے تک جرمانہ عائد ہوسکتا ہے۔
حکام سے معلومات چھپانے والے افراد کو 2 سال تک قید اور 1 لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔
یہ قانون سِکسٹ شیڈول کے علاقوں اور قبائلی برادریوں پر لاگو نہیں ہوگا۔
اسمبلی میں بل کی منظوری کے دوران مختلف جماعتوں نے ترامیم کی تجاویز پیش کیں اور اسے سلیکٹ کمیٹی کے سپرد کرنے کا مطالبہ کیا۔ طویل بحث کے بعد کچھ جماعتوں نے وزیرِ اعلیٰ کی یقین دہانی پر اپنی تجاویز واپس لے لیں، تاہم اے آئی یو ڈی ایف اور سی پی آئی (ایم) نے اعتراضات برقرار رکھے۔









