چمکتی لائٹس، بڑھتے حادثات — انتظامیہ کا سخت فیصلہ

0
70
چمکتی لائٹس، بڑھتے حادثات — انتظامیہ کا سخت فیصلہ

پشاور میں گاڑیوں میں تیز روشنیوں کا استعمال ایک سنجیدہ مسئلہ بنتا جا رہا تھا، خاص طور پر رات کے وقت ہائی بیم لائٹس سڑکوں پر حادثات کی بڑی وجہ سمجھی جا رہی تھیں۔ سامنے سے آنے والی گاڑی کی تیز روشنی چند لمحوں کے لیے ڈرائیور کی بینائی متاثر کر دیتی ہے، جو کسی بھی بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔
اسی صورتحال کو مدِنظر رکھتے ہوئے ضلعی انتظامیہ نے گاڑیوں میں ہر قسم کی تیز لائٹس کے استعمال پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اعلامیے کے مطابق ہائی بیم لائٹس کے ساتھ ساتھ لیزر لائٹس اور موڈیفائیڈ ہیڈلائٹس بھی ممنوع قرار دی گئی ہیں۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ غیر معیاری اور ضرورت سے زیادہ روشن لائٹس انسانی جان کے لیے خطرہ بن چکی ہیں۔
انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ پابندی صرف استعمال تک محدود نہیں بلکہ ہائی بیم اور دیگر ممنوعہ لائٹس کی خرید و فروخت پر بھی مکمل پابندی ہوگی۔ اس اقدام کا مقصد سڑکوں پر بڑھتے ہوئے حادثات میں کمی لانا اور شہریوں کو محفوظ سفر کی سہولت فراہم کرنا ہے۔
اعلامیے کے مطابق پابندی کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف دفعہ 188 کے تحت قانونی کارروائی کی جائے گی، جس میں جرمانہ یا دیگر سزائیں بھی شامل ہو سکتی ہیں۔ انتظامیہ نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایات جاری کر دی ہیں کہ وہ اس فیصلے پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں۔
شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ٹریفک قوانین کی پابندی کریں اور غیر ضروری تیز لائٹس کے استعمال سے گریز کریں۔ سڑک پر ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی سہولت کے ساتھ دوسروں کی جان کا بھی خیال رکھے۔
تیز روشنی وقتی سہولت تو فراہم کر سکتی ہے، مگر اس کا غلط استعمال کسی قیمتی جان کے ضیاع کا سبب بن سکتا ہے۔ محفوظ ڈرائیونگ ہی محفوظ معاشرے کی بنیاد ہے۔

Leave a reply