
لاہور ہائیکورٹ
پی ٹی آئی کی بلے کا انتخابی نشان واپس لینے کے لیے دائر درخواست پر سماعت
عدالت نے رجسٹرار آفس کا اعتراض دور کر کے درخواست کو سماعت کے لیے مقرر کرنے کا حکم دے دیا
یہ معاملہ سپریم کورٹ نے حل کر نہیں دیا تھا ؟ جسٹس عابد عزیز شیخ
سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ الیکشن ایکٹ کی شقوں کو چیلینج نہیں کیا گیا، ایڈوکیٹ عزیز بھنڈاری
پشاور ہائیکورٹ میں بھی الیکشن کمیشن کا سیکشن 215 چیلینج نہیں کیا گیا تھا، وکیل پی ٹی آئی
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ہم نے مارچ میں پھر سے انٹرا الیکشن کروائے، وکیل پی ٹی آئی
الیکشن کمیشن نے پھر سے سوالات اٹھانا شروع کر دیے، وکیل پی ٹی آئی
اب ہم نے الیکشن ایکٹ کی متعلقہ شقوں کو چیلینج کیا گیا ہے، ایڈوکیٹ عزیز بھنڈاری
جسٹس عابد عزیز شیخ نے درخواست پر بطور اعتراض سماعت کی
رجسٹرار آفس نے درخواست کے قابل سماعت ہونے پر اعتراض عائد کر رکھا تھا
درخواست لاہور ہائیکورٹ میں قابل سماعت نہیں، درخواست متعلقہ فارم پر دائر کریں، رجسٹرار آفس
درخواست پاکستان تحریک انصاف اور متعدد عہدیداران کی جانب سے دائر کی گئی ہے
درخواست میں وفاقی حکومت ،الیکشن کمیشن سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا
عام انتخابات سے قبل پی ٹی آئی سے انتخابی نشان واپس لینا الیکشن کمیشن کا غیر قانونی اقدام تھا، موقف
پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی الیکشن کے خلاف الیکشن کمیشن کی کاروائی کو کلعدم قرار دیا جائے۔ استدعا
الیکشن ایکٹ کا سیکشن 215 ،209 ٫ 208 سمیت دیگر کو آئین سے متصادم قرار دیا جائے۔ استدعا
الیکشن کمیشن کو پی ٹی آئی کے خلاف کسی بھی قسم کی کاروائی سے روکا جائے، استدعا
پی ٹی ائی کو بلے کا انتخابی نشان دوبارہ الاٹ کیا جائے، استدعا









