
لاہور ہائیکورٹ
پی ٹی آئی لاہور میں جلسے کی اجازت نہ ملنے کے خلاف دائر درخواست پر سماعت
عدالت نے سرکاری وکیل کو ہدایت لے کر پیش ہونے کی مہلت دیتے ہوئے سماعت کل تک ملتوی کرتے ہوئے
پہلے دن سے میں پوچھ رہا ہوں کہ یوم آزادی پر سیاسی سرگرمی کے حوالے سے حکومت کی پالیسی کیا ہے ؟ جسٹس علی باقر نجفی
آپ کا پی ٹی آئی کے حوالے سے مختلف رویہ ہے، جماعت اسلامی کے حوالے سے مختلف، جسٹس علی باقر نجفی
جماعت اسلامی کا دھرنا چل رہا ہے، جسٹس علی باقر نجفی
پی ٹی آئی کے علاؤہ دو اور سیاسی جماعتوں کے جلسے کی درخواستیں خارج کی گئیں، سرکاری وکیل
جماعت اسلامی بغیر اجازت کے یہ سب کچھ کر رہی ہے ، وکیل پنجاب حکومت
اگر ایسا ہے تو آپ نے ان کے خلاف کیا ایکشن لیا ؟ جسٹس علی باقر نجفی
مجھے اس کی معلومات نہیں، ہو سکتا ہے کہ راولپنڈی ڈویژن نے کچھ کیا ہوں، وکیل پنجاب حکومت
جلسے کی درخواست پر سیاسی جماعت کا رویہ بھی دیکھنا ہوتا ہے، سرکاری وکیل
اگر آپ کو ایسا خطرہ ہے تو سیاسی جماعت بیان حلفی دے سکتی ہے، جسٹس علی باقر نجفی
اگر بیان حلفی کے بعد بھی آپ اجازت نہیں دیتے، تو قانون اس صورتحال کو دیکھے گا، جسٹس علی باقر نجفی
اگر یہ جگہ اور وقت کی تبدیلی کی بات کرتے ہیں تو میں کل اس حوالے سے آگاہ کر دوں گا، سرکاری وکیل
جب سیاسی سرگرمی ہوتی ہیں، تو دہشتگری کے خطرات بڑھ جاتے ہیں، سرکاری وکیل
آپ کو کس بات کا خطرہ ہے، حکومت آپ کی ہے، مظبوط حکومت ہے، جسٹس علی باقر نجفی
کیا پی ٹی آئی والے چلڈرن آف لیسر گوڈ پیں ؟ جسٹس علی باقر نجفی
مجھے سمجھ نہیں آتی کہ اگر آپ کہیں کہ لاہور شہر میں کوئی 2 یا 5 مرلے کی جگہ نہیں جہاں جلسے ہو سکے ؟ جسٹس علی باقر نجفی
2 مرلے کی جگہ پر تو نہیں ہو سکتا، یہ بات تو آپ بھی تسلیم کریں گے، سرکاری وکیل









