پی اے سی اجلاس: پیٹرولیم لیوی کی مکمل وصولی نہ ہونے، اربوں کی بے ضابطگیوں کا انکشاف

0
55
پی اے سی اجلاس: پیٹرولیم لیوی کی مکمل وصولی نہ ہونے، اربوں کی بے ضابطگیوں کا انکشاف

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کے اجلاس میں انکشاف ہوا ہے کہ پیٹرولیم لیوی کی مد میں عوام سے وصول کی جانے والی خطیر رقم کا بڑا حصہ کمپنیاں قومی خزانے میں جمع نہیں کروا رہیں، جب کہ اس حوالے سے مؤثر ریکوری نظام بھی موجود نہیں۔
پی اے سی کا اجلاس چیئرمین سید نوید قمر کی سربراہی میں منعقد ہوا، جس میں پیٹرولیم ڈویژن اور اوگرا کی مالی سال 2023-24 کی آڈٹ رپورٹس کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے دوران پیٹرولیم لیوی، لیٹ پیمنٹ سرچارج، سبسڈیز، واجبات کی عدم وصولی اور قواعد کے برخلاف خریداری کے باعث اربوں روپے کے ممکنہ نقصان پر تفصیلی بحث کی گئی۔
ڈی جی آئل نے کمیٹی کو بتایا کہ پیٹرولیم لیوی کی مد میں سالانہ تقریباً 1400 ارب روپے وصول کیے جاتے ہیں، تاہم کمپنیوں سے مکمل ریکوری کے لیے کوئی واضح اور مضبوط طریقہ کار نافذ نہیں۔ اس پر چیئرمین پی اے سی نے کہا کہ اس صورتحال کا مطلب یہ ہے کہ لیوی ادا کرنے اور نہ کرنے والوں کے ساتھ یکساں سلوک ہو رہا ہے۔ رکن کمیٹی شازیہ مری نے کہا کہ عوام پر بھاری لیوی عائد کی جاتی ہے مگر کمپنیوں کے لیے کوئی مؤثر نظام موجود نہیں، لہٰذا عوام کو بھی ریلیف ملنا چاہیے۔
کمیٹی نے پیٹرولیم لیوی کی وصولی کے قوانین اور طریقہ کار کو مزید سخت بنانے کی ہدایت جاری کی۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ پیٹرول کی تقسیم کار کمپنیوں سنرجی کو اور حیسکول کے ذمے پیٹرولیم لیوی اور جرمانوں کی مد میں 14 ارب 63 کروڑ روپے واجب الادا تھے، تاہم اب تک صرف 19 کروڑ روپے وصول ہو سکے ہیں۔ چیئرمین پی اے سی نے اس پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے سنگین غفلت قرار دیا۔
سیکرٹری پیٹرولیم نے وضاحت کی کہ حیسکول کی جانب سے ادائیگی کی گئی تھی مگر رقم غلط اکاؤنٹ میں چلی گئی۔ آڈیٹر جنرل کے مطابق وہ اکاؤنٹ بند ہو چکا ہے اور اب ریکارڈ میں درستگی ممکن نہیں، جس کے بعد کمیٹی نے حیسکول کا معاملہ نمٹا دیا۔
سیکرٹری پیٹرولیم نے بتایا کہ سنرجی کو حکومت سے کیے گئے معاہدے کے تحت چار سال میں 48 اقساط کے ذریعے 47 ارب روپے ادا کرے گی، جب کہ 21 ارب روپے لیٹ پیمنٹ سرچارج بھی واجب الادا ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سرچارج پر بات چیت جاری ہے اور اقساط کی ادائیگی شروع ہو چکی ہے۔ چیئرمین پی اے سی کے مطابق یہ معاہدہ اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل کے ذریعے طے پایا۔ کمیٹی نے لیٹ پیمنٹ سرچارج پر دو ہفتوں میں تحریری جواب طلب کر لیا۔
اجلاس میں یہ بھی سامنے آیا کہ تکنیکی ڈیٹا کی فروخت سے حاصل ہونے والا ایک ارب روپے گزشتہ آٹھ سال سے ایک کمرشل بینک کے کرنٹ اکاؤنٹ میں رکھا گیا، حالانکہ وزارت خزانہ کی ہدایات کے مطابق یہ رقم قومی خزانے میں جمع ہونی چاہیے تھی۔ چیئرمین پی اے سی نے اس اقدام کو مجرمانہ غفلت قرار دیتے ہوئے ذمہ داروں کی نشاندہی اور فوری منتقلی کی ہدایت دی۔
پی اے سی نے مالی سال 2022-23 میں آر ایل این جی پر برآمد کنندگان کو دی گئی 28 ارب روپے کی سبسڈی کا بھی جائزہ لیا۔ آڈٹ حکام نے بتایا کہ سبسڈی کے استعمال کی سہ ماہی رپورٹس حاصل نہیں کی گئیں اور یہ بھی جانچ نہیں ہوئی کہ آیا سبسڈی کے بعد واقعی برآمدات میں اضافہ ہوا یا نہیں۔ کمیٹی نے آئندہ سبسڈی کے بعد تھرڈ پارٹی آڈٹ کو لازمی قرار دے دیا۔
اجلاس میں ایس این جی پی ایل، ایس ایس جی سی اور پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ کی جانب سے ایک ارب روپے کے لیٹ پیمنٹ سرچارج کی عدم ادائیگی کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ ڈی جی آئل کے مطابق مجموعی طور پر مختلف کمپنیوں پر 222 ارب روپے ایل پی ایس کی مد میں واجب الادا ہیں۔ کمیٹی نے وزارت پیٹرولیم کو دو ہفتوں میں ریکوری کا مکمل لائحہ عمل پیش کرنے کی ہدایت کی۔
پی اے سی کو آگاہ کیا گیا کہ یو ای پی ایل اور پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ کے درمیان تنازع کے باعث 76 ارب روپے کے نقصان کا خدشہ ہے۔ ڈی جی پی سی کے مطابق تنازع کے حل کے لیے کی گئی اسٹڈی کو تسلیم نہیں کیا گیا، جس پر کمیٹی نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پیٹرولیم ڈویژن کو دو ہفتوں میں تنازع کے خاتمے اور نقصان کے ازالے کی ہدایت دی۔

Leave a reply