پیوٹن کی ممکنہ یورپی فضائی سفر پرکشیدگی، پولینڈ نےخبردارکردیا

یورپی فضائی حدود کے حوالے سے روس اور مغربی ممالک کے درمیان تناؤ میں اُس وقت شدت آ گئی جب پولینڈ نے خبردار کیا کہ اگر روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ہنگری کے دورے کے دوران ان کی فضائی حدود استعمال کیں، تو بین الاقوامی قوانین کے تحت کارروائی کی جا سکتی ہے۔
پولینڈ کے وزیرِ خارجہ رادوسواف سکورسکی کا کہنا تھا کہ اگر پیوٹن کا طیارہ پولش فضائی حدود میں داخل ہوتا ہے تو ان کی حکومت بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے جاری کردہ وارنٹ پر عمل کرتے ہوئے کارروائی کی ذمہ داری سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔
واضح رہے کہ آئی سی سی نے روسی صدر پر یوکرین سے بچوں کی مبینہ غیر قانونی منتقلی کے الزام میں وارنٹ جاری کر رکھا ہے۔ روس ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے عدالت کے دائرہ اختیار کو تسلیم نہیں کرتا، تاہم یورپی یونین کے تمام رکن ممالک آئی سی سی کے رکن بھی ہیں اور انہیں قانوناً تعاون کرنا ہوتا ہے۔
پیوٹن کی ہنگری میں متوقع شرکت ایک سفارتی مسئلہ بن چکی ہے، کیونکہ یوکرین کی فضائی حدود بند ہونے کے باعث روسی وفد کو کسی یورپی ملک کی فضائی حدود استعمال کرنی ہوں گی۔ ہنگری، جو روس کے ساتھ نسبتاً بہتر تعلقات رکھتا ہے، پیوٹن کے دورے کی میزبانی پر آمادہ نظر آتا ہے، جبکہ دیگر یورپی ممالک اس صورت حال کو قانونی اور اخلاقی زاویوں سے پرکھ رہے ہیں۔
بلغاریہ نے محتاط رویہ اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر یہ دورہ امن کے قیام میں مدد دے سکتا ہے تو وہ پیوٹن کو فضائی راستہ فراہم کرنے پر غور کرے گا، تاہم روس کی جانب سے تاحال باضابطہ درخواست موصول نہیں ہوئی۔
یہ ممکنہ دورہ نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی عملداری کا امتحان ہوگا بلکہ یورپی سفارت کاری کے لیے بھی ایک نازک لمحہ بن سکتا ہے۔








