پینٹاگون کی خفیہ ایجنسی کےسربراہ وسینئر فوجی کمانڈرزبرطرف

حال ہی میں پینٹاگون میں ایک بڑی تبدیلی دیکھی گئی، جس میں خفیہ ایجنسی کے سربراہ سمیت متعدد سینئر فوجی کمانڈرز کو برطرف یا عہدوں سے ہٹایا گیا ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل جیفری کروز کو ڈیفنس انٹیلیجنس ایجنسی کے سربراہ کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا۔
اس برطرفی کا بنیادی سبب ایک ابتدائی رپورٹ تھی، جو امریکی فضائی حملوں کی مؤثریت کے حوالے سے صدر ٹرمپ کے دعوؤں سے متصادم تھی۔ رپورٹ نے بتایا کہ حملوں نے ایران کے جوہری پروگرام کو صرف چند ماہ کے لیے پیچھے دھکیلا، نہ کہ مکمل “تباہ” کیا جیسا کہ صدر نے دعویٰ کیا تھا۔
سینئر کانگریسی رکن مارک وارنر نے اس اقدام کو “انٹیلیجنس کو وفاداری ٹیسٹ کے طور پر استعمال کرنے” کی کوشش قرار دیا اور اس کے خلاف اظہارِ تشویش کیا۔
ڈی آئی اے کے اطلاعات کے مطابق ڈپٹی ڈائریکٹر کرسٹین بورڈائن نے کروز کی جگہ قائم مقام سربراہ کے طور پر فرائض سنبھال لیے ہیں۔
اپریل 2025 میں، جنرل ٹموتھی ہاؤگ، جو نیشنل سکیورٹی ایجنسی اور امریکی سائبر کمانڈ کے سربراہ تھے، کو اس عہدے سے ہٹا دیا گیا۔
برطرفی کی وجہ فوری طور پر واضح نہیں کی گئی، لیکن کانگریس کے ڈیموکریٹک اراکین نے اس پر تشویش کا اظہار کیا۔ ایک رکنِ کانگریس نے کہا:
> “میں جنرل ہاؤگ کو ایک ایماندار اور واضح رہنما کے طور پر جانتا ہوں… مجھے ڈر ہے کہ یہی خوبیاں ہیں جو ان کی برطرفی کا سبب بن سکتی ہیں۔”
ان کے نائب وینڈی نوبل کو بھی برطرف کر کے کسی دوسرے عہدے پر تعینات کیا گیا۔
جنرل چارلس سی کیو براؤن، جو جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین تھے، کو بھی فروری 2025 میں برطرف کیا گیا تھا، جو ایک غیر معمولی اقدام تھا۔
اسی سلسلے میں، چیف آف نیول آپریشنز، ایڈمرل لیزا فرنچیٹی کو بھی ہٹایا گیا۔ یہ دونوں برطرفیاں ایک ساتھ ہونے والی پہلی مثالیں تھیں۔
اس کے علاوہ، اپریل 2025 میں دفاعی سکریٹری کے کچھ معاونین — جیسے ڈین کالڈویل، کالن کیرول، اور ڈیرن سیلنک — کو لیکس کی تحقیقات کے دوران برطرف یا معطل کیا گیا۔









