پہلی بار آئس لینڈ میں مچھر دریافت، ماحولیاتی تبدیلی کا ممکنہ اثر

دنیا کے چند ایسے خطے جنہیں مچھروں سے پاک سمجھا جاتا تھا، ان میں سے ایک یورپی ملک آئس لینڈ بھی شامل تھا۔ تاہم حالیہ تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ آئس لینڈ میں پہلی مرتبہ مچھروں کی موجودگی ریکارڈ کی گئی ہے۔
آئس لینڈ کے ماہرین نے ملک کے Kiðafell نامی علاقے میں مچھروں کی تین اقسام کو شناخت کیا ہے۔ ان اقسام کو عموماً ٹھنڈے علاقوں میں دیکھا جاتا ہے اور امکان ہے کہ وہ آئس لینڈ کے بدلتے ہوئے موسم میں زندہ رہنے کے قابل ہو چکی ہیں۔
یہ پیش رفت اس جانب اشارہ کرتی ہے کہ عالمی درجہ حرارت میں اضافے کے باعث اب وہ علاقے بھی مچھروں کے لیے موزوں بن رہے ہیں جہاں یہ کیڑے پہلے زندہ نہیں رہ سکتے تھے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ شمالی نصف کرے میں درجہ حرارت میں اضافہ دیگر علاقوں کی نسبت تیزی سے ہو رہا ہے، اور آئس لینڈ میں گرمی کی شدت چار گنا زیادہ دیکھی جا رہی ہے۔ گلیشیئرز پگھلنے کے ساتھ ساتھ وہاں اب وہ آبی مخلوقات بھی نظر آ رہی ہیں جو پہلے صرف گرم پانیوں میں پائی جاتی تھیں۔
اگرچہ ابھی یہ واضح نہیں کہ یہ مچھر آئس لینڈ تک کیسے پہنچے، ماہرین کے مطابق یہ بحری جہازوں یا کارگو کنٹینرز کے ذریعے وہاں منتقل ہو سکتے ہیں۔
یہ واقعہ ایک وارننگ ہے کہ جیسے جیسے دنیا گرم ہو رہی ہے، مچھر اور ان سے جڑی بیماریاں ان علاقوں تک بھی پھیل سکتی ہیں جو پہلے ان سے محفوظ سمجھے جاتے تھے۔









