پورٹ قاسم پر 60 ارب روپے کا ڈریجنگ ٹھیکہ—وزیراعظم کے نام کے غلط استعمال کا انکشاف

0
90
پورٹ قاسم پر 60 ارب روپے کا ڈریجنگ ٹھیکہ—وزیراعظم کے نام کے غلط استعمال کا انکشاف

اسلام آباد: پورٹ قاسم پر ڈریجنگ کے لیے تقریباً 60 ارب روپے مالیت کا ٹھیکہ براہِ راست دینے کی مبینہ کوشش نے شکوک پیدا کر دیے ہیں، جب کہ اس عمل کو درست ثابت کرنے کے لیے وزیراعظم کی جانب سے ’’فوری احکامات‘‘ کا حوالہ دینے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔ اس صورتحال پر ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے وزیراعظم سے مداخلت اور انکوائری کا مطالبہ کیا ہے۔

ٹرانسپرنسی کے مطابق انہیں موصول ہونے والی شکایت میں الزام لگایا گیا تھا کہ پورٹ قاسم اتھارٹی اور نیا قائم ہونے والا ادارہ نیشنل ڈریجنگ اینڈ میرین سروسز (این ڈی ایم ایس) ملک میں میری ٹائم ڈریجنگ کے سب سے بڑے پروجیکٹ کو مسابقتی بولی کے بغیر ایک نجی کمپنی کو دینے کی تیاری میں تھے، جو پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (پی پی آر اے) قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

شکایت میں کہا گیا کہ این ڈی ایم ایس، جو جولائی 2025ء میں پورٹ قاسم اتھارٹی، کراچی پورٹ ٹرسٹ، گوادر پورٹ اتھارٹی اور نیشنل لاجسٹک کارپوریشن کے اشتراک سے قائم ہونے جا رہا ہے، تقریباً 200 ملین ڈالر مالیت کا ٹھیکہ براہِ راست دینے کا خواہاں تھا۔ اس اقدام کو جواز فراہم کرنے کے لیے مبینہ طور پر یہ دعویٰ کیا گیا کہ وزیراعظم نے پورٹ قاسم ڈریجنگ تیزی سے مکمل کرنے کے لیے ’’فوری اقدامات‘‘ کی ہدایت دی ہے۔

ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے شکایت کا ابتدائی جائزہ لینے کے بعد کہا ہے کہ الزامات بظاہر درست لگتے ہیں۔ ڈریجنگ کا منصوبہ گزشتہ 17 برس سے تعطل کا شکار ہے۔ 2008ء میں جاری کیے گئے پہلے ٹینڈر میں سب سے کم بولی 10.7 ارب روپے تھی، لیکن اسے بغیر وضاحت منسوخ کر دیا گیا۔ اس کے بعد ہونے والی تاخیر کے باعث لاگت بڑھ کر 60 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے۔

تنظیم نے خبردار کیا کہ پی پی آر اے قوانین سے استثنیٰ لینے کی کوشش دراصل ایک مخصوص کمپنی کو سب سے بڑا میری ٹائم پروجیکٹ بغیر مسابقتی نرخ کے دینے کی کوشش معلوم ہوتی ہے، جس سے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ٹرانسپرنسی نے یاد دلایا کہ وزیراعظم نے حال ہی میں لیاری ایکسپریس وے کا ٹھیکہ بغیر ٹینڈر دینے پر انکوائری کرائی تھی، لہٰذا اسی نوعیت کی کارروائی یہاں بھی ضروری ہے۔

ٹرانسپرنسی نے مطالبہ کیا کہ حکومت یہ بھی معلوم کرے کہ ٹینڈرنگ کے عمل کو کیوں نظرانداز کیا گیا، جب کہ براہِ راست کنٹریکٹ دینے سے اوپن بڈنگ کے مقابلے میں صرف ایک ماہ کی ہی بچت ہوتی ہے۔ ساتھ ہی یہ تجویز بھی دی گئی کہ اس شخص یا عملہ کا احتساب کیا جائے جس نے دو دہائی قبل 10 ارب روپے میں مکمل ہونے والا منصوبہ روک کر اس کی لاگت میں غیر معمولی اضافہ کیا۔

ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے وزیراعظم سے درخواست کی ہے کہ پورٹ قاسم اتھارٹی کو ہدایت کی جائے کہ وہ پی پی آر اے قواعد کے مطابق اوپن انٹرنیشنل ٹینڈرز جاری کرے تاکہ شفاف اور مسابقتی عمل کے ذریعے لاگت کم کی جا سکے۔

Leave a reply