پنجاب میں کم عمری کی شادی کے خلاف نیا قانون نافذ

0
21
پنجاب میں کم عمری کی شادی کے خلاف نیا قانون نافذ

سردار سلیم حیدر خان نے چائلڈ میرج آرڈیننس 2026 کی منظوری دے دی، جس کے تحت صوبے بھر میں 18 سال سے کم عمر لڑکے یا لڑکی کی شادی کو قابلِ سزا جرم قرار دے دیا گیا ہے۔ نئے آرڈیننس کے مطابق نکاح کے وقت دلہا اور دلہن دونوں کی عمر کم از کم 18 سال ہونا لازمی ہوگی۔
آرڈیننس میں واضح کیا گیا ہے کہ کم عمری کی شادی کو سنگین جرم تصور کیا جائے گا۔ 18 سال سے کم عمر بچے یا بچی سے شادی کرنے والے شخص کو 7 سال تک قید اور 10 لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔ اسی طرح کم عمر بچے سے نکاح پڑھانے یا کروانے پر 3 سال تک قید اور 5 لاکھ روپے جرمانہ مقرر کیا گیا ہے۔
قانون کے تحت نکاح رجسٹرار بھی ذمہ دار ہوں گے۔ اگر کوئی نکاح رجسٹرار کم عمر کی شادی رجسٹر کرے گا تو اسے کم از کم ایک سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ والدین یا سرپرستوں کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا اور ان کے خلاف فوجداری کارروائی کی جا سکے گی۔
آرڈیننس میں یہ شق بھی شامل کی گئی ہے کہ اگر کم عمر بچے یا بچی کو شادی کے لیے کسی دوسرے صوبے لے جایا گیا تو اس عمل پر بھی 7 سال تک قید کی سزا ہو گی۔ انتظامیہ کو کم عمری کی شادی روکنے کے لیے خصوصی اختیارات دے دیے گئے ہیں تاکہ ایسے واقعات کی بروقت روک تھام کی جا سکے۔

Leave a reply