
پنجاب میں ڈرائیونگ ٹیسٹ لینے کے طریقے میں بڑی تبدیلی کی گئی ہے۔ پہلی بار لاہور میں مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلیجنس) سے لیس ایک جدید گاڑی تیار کی گئی ہے، جو خودکار نظام کے تحت ڈرائیونگ ٹیسٹ لے گی۔
حکام کے مطابق جلد ہی ایسی 200 گاڑیاں تیار کی جائیں گی، جنہیں صوبے بھر کے ڈرائیونگ ٹیسٹنگ مراکز پر بھیجا جائے گا۔
گاڑی میں جدید کیمرے اور سینسرز نصب کیے گئے ہیں جو ڈرائیور کی کارکردگی کا مکمل جائزہ لیتے ہیں۔ اگر کوئی امیدوار ریورس گیئر ایک سے زیادہ بار استعمال کرتا ہے، تو گاڑی کا سافٹ ویئر اسے ناکام قرار دے کر خود بخود گاڑی بند کر دیتا ہے۔
ڈی آئی جی ٹریفک وقار نذیر کے مطابق اس اقدام سے ٹیسٹ کے عمل میں شفافیت اور معیار میں بہتری آئے گی، اور انسانی مداخلت کم ہو جائے گی۔









