پنجاب میں سیلاب کی صورتحال سنگین، 20 لاکھ سے زائد افراد متاثر، 33 اموات

0
252
پنجاب میں سیلاب کی صورتحال سنگین، 20 لاکھ سے زائد افراد متاثر، 33 اموات

پنجاب کے مختلف علاقوں میں سیلابی صورتحال بدستور جاری ہے، جس سے متاثرہ افراد کی تعداد 20 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ مختلف حادثات میں 33 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

ڈی جی پی ڈی ایم اے پنجاب عرفان علی کاٹھیا کے مطابق صوبے میں حالیہ تاریخ کا سب سے بڑا ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ اب تک متاثرہ علاقوں سے ساڑھے 7 لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے، جبکہ 2200 دیہات سیلاب کی لپیٹ میں آ چکے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں لوگوں کے جانوروں کو بھی محفوظ مقامات تک پہنچانے کے لیے بیڑوں کا انتظام کیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ نئے بارشوں کے اسپیل کے باعث اربن فلڈنگ کے مسائل بھی پیدا ہوئے ہیں، جس سے صورت حال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔

ملتان میں کمشنر عامر کریم کے مطابق اس وقت 40 ہزار کیوسک کا ریلا شہر میں داخل ہو چکا ہے جبکہ پیر کے روز دریائے چناب میں 8 لاکھ کیوسک کا ریلا گزرنے کا خدشہ ہے۔ ہیڈ تریموں سے 7 لاکھ کیوسک اور راوی سے 90 ہزار کیوسک پانی آنے کی توقع ہے۔ اگر ضرورت پیش آئی تو ہیڈ محمد والا پر حفاظتی شگاف ڈالنے کی حکمت عملی تیار ہے۔

ڈپٹی کمشنر مظفرگڑھ نے بتایا ہے کہ دریائے چناب کا بڑا ریلا 2 سے 3 ستمبر کے دوران ضلع میں داخل ہوگا اور اس سلسلے میں تمام تر تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔

ادھر فیصل آباد کے قریب دریائے راوی میں پانی کی سطح بلند ہونے کے باعث انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ماڑی پتن کے مقام سے 2 لاکھ 15 ہزار کیوسک کا ریلا گزر رہا ہے، جبکہ 1500 سے زائد افراد کو ریلیف کیمپوں میں منتقل کیا گیا ہے۔

دریائے چناب کا ریلا سیالکوٹ، وزیرآباد اور چنیوٹ میں تباہی مچانے کے بعد اب جھنگ میں داخل ہو چکا ہے، جہاں 220 دیہات زیر آب آ چکے ہیں، سیکڑوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہو گئی ہیں اور متعدد رابطہ سڑکیں منقطع ہو گئی ہیں۔

انتظامیہ اور ریسکیو ادارے متاثرہ علاقوں میں ریلیف اور بحالی کی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، تاہم صورت حال تاحال قابو میں نہیں آ سکی۔

Leave a reply