
پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی میں کمی کے بعد تجارتی گزرگاہیں کھولنے کی تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں۔ گزشتہ 11 دن سے بند سرحدی راستے جلد بحال ہونے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔
چمن کے مقام پر پاک افغان بارڈر “باب دوستی” تاحال بند ہے، تاہم افغان علاقے اسپین بولدک میں پھنسے 500 سے زائد خالی پاکستانی ٹرک واپس آ چکے ہیں۔ حکام کے مطابق فی الحال صرف افغان شہریوں کو واپس لے جانے والی خالی گاڑیوں کو آمد و رفت کی اجازت دی جا رہی ہے۔
تجارتی سرگرمیوں کی بندش کے باعث دونوں جانب ہزاروں افراد سفری مشکلات کا شکار ہیں، جن میں بڑی تعداد ویزا اور پاسپورٹ رکھنے والوں کی بھی شامل ہے۔ اس دوران پاکستان میں بغیر قانونی دستاویزات کے مقیم 2000 سے زائد افغان شہریوں کو واپس افغانستان بھیجا جا چکا ہے۔
ادھر طورخم بارڈر پر بھی تجارتی آمدورفت کی بحالی کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں، اور گاڑیوں کی اسکیننگ کے لیے جدید مشینیں نصب کی جا چکی ہیں۔ بندش کے باعث یہاں کارگو ٹرکوں کی لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں۔
جنوبی وزیرستان میں انگور اڈہ، شمالی وزیرستان میں غلام خان اور ضلع کرم میں خرلاچی جیسے دیگر سرحدی مقامات بھی گزشتہ 10 دن سے بند ہیں۔ ایف آئی اے ذرائع کے مطابق سرحدی پابندیوں کے باعث 5000 سے زائد پاکستانی شہری افغانستان میں پھنسے ہوئے ہیں۔
سرحدی راستے کھولنے کی صورت میں تجارتی اور سفری سرگرمیوں میں نمایاں بہتری متوقع ہے۔









