
اسلام آباد: وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت مسلسل اصلاحات اور پالیسی میں تسلسل کی بدولت برآمدات پر مبنی ترقی کی جانب بڑھ رہی ہے، جس سے ملکی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔
ایک حالیہ انٹرویو میں، جو اب بین الاقوامی اخبار “یو ایس اے ٹوڈے” میں شائع ہوا، وزیرِ خزانہ نے بتایا کہ کئی سال بعد پاکستان نے بنیادی مالیاتی توازن حاصل کیا اور کرنٹ اکاؤنٹ میں سرپلس ریکارڈ کیا، جو ماضی کے خسارے کے چکروں سے باہر نکلنے کی علامت ہے۔
انہوں نے بتایا کہ زبردست ترسیلات زر، مہنگائی میں کمی اور غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ (14.5 ارب ڈالر سے زائد) معیشت کی مضبوطی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ کرنسی کی مستحکم قیمت نے بھی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بڑھایا ہے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان اب کھپت اور قرض پر مبنی ترقی کے بجائے برآمدات پر مبنی ماڈل اپنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ موجودہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات، توانائی کی قیمتوں میں تبدیلی اور سرکاری اداروں میں ساختی اصلاحات کے ذریعے یہ حکمت عملی واضح ہو رہی ہے۔
وزیرِ خزانہ کے مطابق، پاکستان عالمی طلب کے رجحانات کے مطابق اپنی اقتصادی حکمت عملی کو ڈھال رہا ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی، ٹیکسٹائل اور زرعی مصنوعات کو ایسے شعبے کے طور پر نشاندہی کی گئی ہے جہاں مضبوط ترقی ممکن ہے۔ آئی ٹی برآمدات پہلے ہی چار ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہیں اور مناسب ریگولیٹری اقدامات کے ساتھ یہ پانچ سال میں دوگنی ہو سکتی ہیں۔
مزید برآں، برآمد کنندگان کے لیے ٹیکس نظام آسان بنایا جا رہا ہے اور بیوروکریسی کی رکاوٹیں کم کی جا رہی ہیں تاکہ طویل مدتی پیداوار اور عالمی مقابلہ آرائی کو فروغ دیا جا سکے۔
وزیرِ خزانہ نے کہا کہ پاکستان میں ریگولیٹری فریم ورک کو اپ ڈیٹ کیا جا رہا ہے تاکہ جدت اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکے، خاص طور پر امریکہ سے۔ عالمی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں تجارت اور سرمایہ کاری کے مواقع میں حصہ لینے کی دعوت دی گئی ہے۔









