
دوحہ: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان کے پاس مضبوط افواج اور جدید دفاعی نظام موجود ہے، اور ملک کی خودمختاری یا سالمیت کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔
ایک انٹرویو میں انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل کی جانب سے قطر پر حملے کے بعد پاکستان نے صومالیہ کے ساتھ مل کر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کی درخواست دی۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے بھی اسرائیلی اقدامات کی شدید مذمت کی ہے۔ ان کے مطابق، قطر جیسے خودمختار ملک پر حملہ کسی صورت قابل قبول نہیں۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ اسرائیلی حملوں پر صرف مذمت کافی نہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ مسلم ممالک واضح اور مؤثر حکمت عملی اپنائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ غزہ کے عوام شدید مشکلات سے دوچار ہیں اور فوری طور پر جنگ بندی ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے جو مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے چاہتا ہے، مگر اپنی خودمختاری کے دفاع کے لیے ہر قدم اٹھانے کو تیار ہے۔
پانی کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے نائب وزیراعظم نے کہا کہ مستقبل میں پانی کے وسائل پر تنازعات بڑھ سکتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل نہیں کر سکتا، اور اگر بھارت نے پانی روکنے کی کوشش کی تو پاکستان اسے اعلانِ جنگ تصور کرے گا۔
اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ تمام مسائل، بشمول مسئلہ کشمیر، کے حل کے لیے بات چیت پر آمادہ ہے، تاہم انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ دہشتگردی کا سب سے زیادہ شکار ہونے کے باوجود بھارت پاکستان پر الزامات لگا رہا ہے، جو کہ حیران کن ہے۔









