
اسلام آباد: وفاقی حکومت نے ملک کا پہلا سرکاری مصنوعی ذہانت (اے آئی) اوتار ‘لیلا’ پیش کر دیا ہے، جس کا مقصد عوامی اور نجی شعبوں میں اے آئی کے استعمال کو فروغ دینا ہے۔
وزیرِ اطلاعات و ٹیکنالوجی نے تقریب کے دوران بتایا کہ ‘لیلا’ نہ صرف تعلیمی معاونت فراہم کرے گا بلکہ شہری سہولیات میں رہنمائی اور مختلف زبانوں میں صارفین سے بات چیت کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
تقریب میں سینئر پالیسی سازوں اور ٹیکنالوجی ماہرین نے شرکت کی اور اسے ملک میں مصنوعی ذہانت کے شعبے کی ترقی کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا۔
حکومت کے مطابق 2030 تک ایک لاکھ افراد کو اے آئی میں تربیت دی جائے گی، ایک ہزار نئے اے آئی وینچرز کو فنڈنگ فراہم کی جائے گی، 400 یونیورسٹی منصوبوں کی حمایت کی جائے گی اور 50 شعبہ جاتی اے آئی ماڈلز تیار کیے جائیں گے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام پاکستان کی تکنیکی اور معاشی ترقی میں سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔








