
نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ صومالی لینڈ صومالیہ کا ناقابلِ تردید اور اٹوٹ حصہ ہے، اور کسی بھی بیرونی ملک یا ادارے کو اس حقیقت کو چیلنج کرنے کا کوئی قانونی یا اخلاقی جواز حاصل نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان صومالیہ کی خودمختاری، وحدت اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے۔
اتوار کے روز جدہ میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے وزرائے خارجہ کونسل کے غیر معمولی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے اسرائیلی وزیر خارجہ کے صومالی لینڈ کے دورے کو تشویشناک قرار دیا اور کہا کہ پاکستان اس اقدام کو غیرقانونی اور بے بنیاد سمجھتا ہے، جس کی سخت مذمت کی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ کے فورم پر بھی اس معاملے پر اپنا مؤقف واضح کیا ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ بین الاقوامی قانون کے مطابق کسی بھی ریاست کی خودمختاری اور سرحدوں کا احترام لازم ہے، اور ایسے اقدامات یا بیانات کی کوئی قانونی یا سیاسی حیثیت نہیں ہوتی۔
نائب وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اسرائیل کا یہ قدم ہارن آف افریقہ اور بحیرہ احمر کے خطے میں امن و استحکام کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دیگر او آئی سی رکن ممالک کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ بیان میں اس اقدام کو مسترد کیا ہے۔
اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ یہ کارروائی اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے، جس کے خطے پر منفی اور دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صومالیہ کی ترقی اور استحکام کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
غزہ کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہاں فوری طور پر جنگ بندی اور انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی کے لیے عالمی سطح پر سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان او آئی سی اور عرب ممالک کے ساتھ مل کر فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت جاری رکھے گا، جبکہ کسی بھی قسم کی جبری نقل مکانی بین الاقوامی قانون کے منافی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے جائز حقوق کے ساتھ کھڑا ہے۔
اجلاس سے خطاب میں اسحاق ڈار نے او آئی سی پر زور دیا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام ممکن ہو سکے۔









